خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 359 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 359

خطبات مسرور جلد 16 359 به جمعه فرموده مورخه 03 اگست 3 ت 2018 کو ہی چند باتیں کہوں گا اور ان کی طرف توجہ دلاؤں گا۔کارکنان کو میں نے گزشتہ خطبہ میں تو کچھ نہیں کہا تھا لیکن گزشتہ اتوار کو جو جلسہ کے انتظامات کا معائنہ ہوتا ہے اس میں توجہ دلا دی تھی کہ ان کے رویے کیسے ہونے چاہئیں اور کس طرح انہوں نے کام کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک لمبے عرصہ سے یہ کارکنان یا یہ کہنا چاہئے کہ ان میں سے اکثر ڈیوٹیاں دیتے آرہے ہیں۔اس لئے جہاں تک کام سمجھنے اور کام عمدہ رنگ میں کرنے کا سوال ہے یہاں کے کارکنان اب کافی تربیت یافتہ ہو گئے ہیں اور ہر سال نئے شامل ہونے والے کارکنوں اور بچوں اور نوجوانوں کو بھی پہلے کام کرنے والے اور اسی طرح افسران اپنے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تربیت کرتے ہیں یا تربیت دیتے ہیں۔لیکن بعض باتوں کی جو زیادہ توجہ طلب ہیں یاد دہانی بھی کروانی پڑتی ہے سو اس وقت جیسا کہ میں نے کہا میں مہمانوں اور میز بانوں دونوں کو چند باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا۔سب سے پہلی بات کارکنوں کے لئے یہ ہے کہ انہوں نے اُن لوگوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جاری کردہ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری کردہ جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آئے ہیں۔اور کسی دنیاوی میلے میں شامل ہونے کے لئے نہیں آئے بلکہ اپنے روحانی، علمی اور اخلاقی معیاروں میں بہتری کے لئے جمع ہوئے ہیں۔اور میں امید کرتا ہوں کہ یہی سوچ جلسہ میں شامل ہونے والے ہر فرد کی ہے اور ہونی چاہئے ورنہ ان کا جلسہ میں شامل ہونا بے مقصد ہے۔بہر حال کارکنان کو یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مہمانوں کا رویہ جیسا بھی ہو کام کرنے والوں نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا ہے۔اگر کبھی مہمان یا شامل ہونے والا کوئی فرد بھی غلط رویہ بھی اپنائے تو کارکن کا کام ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھے اور اُسی طرح اور اُسی رویے سے اسے جواب نہ دے۔جب ہر کارکن نے خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی خاطر ہی بعض مہمانوں کے غلط رویے بھی برداشت کرنے پڑیں تو برداشت کریں تبھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔ہم جس نبی کے ماننے والے ہیں اس کا اُسوہ حسنہ مہمانوں کے لئے کیا تھا؟ کبھی کبھی آنے والے مہمان نہیں کہ سال میں ایک دفعہ جلسہ کے لئے آئے بلکہ وہ لوگ جو شہر میں رہنے والے تھے، روزانہ ملنے والے تھے ، ان کو اگر کبھی ان کی غربت کی حالت کی وجہ سے کھانے پر بلایا یا ویسے کھانے پر بلایا اور وہ لمبا عرصہ آکر بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گئے اور آپ کے آرام اور آپ کے کام میں مخل ہوئے تو انہیں کبھی نہیں کہتے تھے کہ وقت سے پہلے نہ آؤ میں مصروف ہوں اور کھانا کھا کر جلدی چلے جاؤ کہ تمہارے بیٹھے رہنے کی وجہ سے میں اپنے بعض کام نہیں کر سکتا۔یہ لوگوں کی حالت دیکھ کر اور آپ کا مہمانوں کو برداشت کرنے کا صبر اور حوصلہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو فرمایا کہ فَيَسْتَحْيِ مِنْكُمْ (الاحزاب:54)۔کہ وہ تمہارے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے تمہیں منع کرنے سے حیا کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات کہنے میں کوئی روک نہیں۔پس لمبا عرصہ بلا وجہ نبی کے گھر میں بیٹھ کر اسے تکلیف نہ دو۔پس ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہمان نوازی کے اعلیٰ ترین اُسوہ کا ذکر فرما دیا۔