خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 358 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 358

خطبات مسرور جلد 16 358 31 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اگست 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 03 اگست 2018ء بمطابق 03 ظهور 1397 ہجری شمسی بمقام حدیقۃ المہدی، آلٹن، یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الحمد للہ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ہم ایک اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کی توفیق پارہے ہیں۔بعض لوگ پہلی مرتبہ جلسہ میں شامل ہو رہے ہیں۔بہت سے ایسے بھی ہیں جن کو سفر اور ویزے کی سہولت ہے اور وہ سالہا سال سے جلسہ میں شامل ہوتے آرہے ہیں۔یوکے کے رہنے والے ایسے بھی ہیں جو پہلی مرتبہ جلسہ میں شامل ہو رہے ہیں۔تھوڑا عرصہ ہوا ہے انہیں یہاں آئے، یہاں آکر سیٹل ہوئے یا بعض بچے ہیں جو اپنے ہوش و حواس میں پہلی دفعہ جلسہ کے ماحول سے فائدہ اٹھانے والے ہوں گے۔پس سب کو جلسہ کے ان تین دنوں میں جلسہ کے روحانی ماحول سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔جلسہ کے پروگراموں کو خاموشی اور توجہ سے سننا چاہئے تبھی جلسہ میں شامل ہونے کا فائدہ ہو گا۔تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جلسہ کے انعقاد کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ جلسہ کے سب انتظامات یا تقریباً نوے فیصد خاص طور پہ جو جلسہ کے دنوں کے انتظامات ہیں افراد جماعت رضا کارانہ طور پر کر رہے ہوتے ہیں۔اس لئے بعض کاموں میں کمیاں اور کمزوریاں بھی رہ جاتی ہیں۔لیکن ان کمیوں اور کمزوریوں کو ہم سب شامل ہونے والوں نے ٹھیک کرنا ہے اور دُور کرنا ہے۔جہاں کارکنان اپنے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے وہاں مہمان بھی ، شامل ہونے والے بھی ان کمیوں اور کمزوریوں سے صرفِ نظر کریں اور جہاں کہیں کارکنوں کی مدد کی ضرورت ہو خود بڑھ کر ان کی مدد کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔اکائی ہم میں تبھی پیدا ہو سکتی ہے جب ہم ایک دوسرے کے بوجھ اٹھانے والے ہوں اور اگر مدد کی ضرورت ہو تو مدد کرنے کی کوشش کریں۔پس اس بنیادی بات کو مہمانوں اور میز بانوں دونوں کو یاد رکھنا چاہئے۔عموما میں کارکنان اور میز بانوں کی ذمہ داریوں اور فرائض کے بارے میں جلسہ سے ایک ہفتہ پہلے خطبہ میں ذکر کیا کرتا ہوں اور مہمانوں کو ان کے فرائض کے بارے میں جلسہ والے دن کے خطبہ میں کچھ باتیں کہتا ہوں۔ہمارے جلسوں کی بلکہ ہمارے جماعتی نظام کی یہی خوبی ہے یا ہم آپس میں پیار و محبت سے تبھی رہ سکتے ہیں جب ہر ایک اپنے حقوق و فرائض کو احسن رنگ میں سر انجام دینے والا ہو اور اس کو سمجھنے والا ہو۔بہر حال آج میں دونوں