خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 356
356 خطبات مسرور جلد 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 فروخت کی جائیں جو اشیاء منڈی میں نہیں لائی جاتیں اور انفرادی حیثیت رکھتی ہیں ان کا یہاں ذکر نہیں ہے۔پس جو چیزیں منڈی میں لائی جاتی ہیں اور فروخت کی جاتی ہیں۔ان کے متعلق اسلام کا یہ واضح حکم ہے کہ ایک ریٹ مقرر ہونا چاہئے قیمت مقرر ہونی چاہئے تا کوئی دوکاندار قیمت میں کمی بیشی نہ کر سکے۔چنانچہ بعض آثار اور احادیث فقہاء نے لکھی ہیں جن میں اس کی تائید کی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 307-308- خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جون 1938ء) حکومت کے نظام کے تحت چراگاہ اور وہاں پانی کے لئے کنوئیں کھدوانے کا کام بھی اسلامی حکومت کا کام ہے۔یہ کام بھی ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب سے کروایا تھا۔چنانچہ اس بارے میں روایت میں آتا ہے کہ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقیع کے مقام سے گزرے تو وہاں وسیع علاقہ اور گھاس دیکھی۔بہت بڑا علاقہ تھا اور ہر جگہ بڑا سبز علاقہ تھا اور بہت سے کنوئیں بھی تھے۔وہاں زمین کا پانی بھی اچھا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کنوؤں کے پانی کے متعلق پوچھا۔تو عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! پانی تو یہ بڑا اچھا ہے۔لیکن جب ہم ان کنوؤں کی تعریف کرتے ہیں تو ان کا پانی کم ہو جاتا ہے اور کنوئیں بیٹھ جاتے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو حکم دیا کہ وہ ایک کنواں کھو دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو چراگاہ بنانے کا حکم دیا۔یعنی سرکاری چراگاہ جو حکومت کے انتظام کے تحت ہو گی۔حضرت بلال بن حارث مزنی کو اس پر نگران مقرر فرمایا۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس زمین میں سے کتنے حصہ کو چراگاہ بناؤں۔بڑا وسیع علاقہ ہے۔وہ کتنا حصہ ہے جو سر کاری چراگاہ بنانی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب طلوع فجر ہو جائے تو پھر ایک بلند آواز شخص کو کھڑا کر ورات کے اندھیرے میں تو آواز بہت دور تک جاتی ہے ناں طلوع فجر ہو جائے تو بلند آواز شخص کو کھڑا کر و۔پھر اسے مکمل نامی وہاں ایک پہاڑ تھا چھوٹا سا تھا اس پر کھڑا کرو۔پھر جہاں تک اس شخص کی آواز جائے اتنے حصے کو مسلمان مجاہدین کے گھوڑوں اور اونٹوں کی چراگاہ بنا دو۔یہ بھی ان کا ایک انتظام تھا۔فنوں اور میلوں کی بات نہیں ہو رہی۔اس کے آخر میں مختلف کونوں میں لوگوں کو کھڑا کرو اور جہاں تک آواز جاتی ہے، جہاں تک آواز پہنچ رہی ہے وہ اس چراگاہ کی باؤنڈری ہو گی۔اور وہ مسلمان مجاہدین کے گھوڑوں کے لئے اور اونٹوں کے لئے چراگاہ ہو گی جس کے ذریعہ سے وہ جہاد کر سکیں۔یہ بیت المال اور سرکاری چراگاہ ہے اور جنگ میں جانے والے جو مجاہدین ہیں ان کے گھوڑے اور اونٹ وہاں چریں گے۔حضرت بلال نے اس پر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مسلمانوں کے عام چرنے والے جانوروں کے بارے میں کیا رائے ہے۔بہت سارے عام مسلمانوں کے جانور بھی باہر کھلے میدانوں میں ، چراگاہوں میں چرتے ہیں ان کے متعلق کیا رائے ہے ؟ آپ کا کیا ارشاد ہے ؟۔آپ نے فرمایا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے۔یہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو جہاد کے لئے اپنے اونٹ اور گھوڑے تیار کر رہے ہیں۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول اس کمزور مرد یا کمزور عورت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کے پاس قلیل تعداد میں بھیڑ بکریاں ہوں اور وہ انہیں منتقل کرنے پر قدرت نہ رکھتے ہوں۔بہت تھوڑی تعداد میں غریب لوگ ہیں چند