خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 355
خطبات مسرور جلد 16 355 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 حضرت عمر و بن عاص کے مصر پر حملہ تک طرفین کے درمیان قائم رہا۔ایک امن کا معاہدہ تھا۔الاستيعاب جلد 1 صفحہ 376 حاطب بن ابی بلتعة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) حضرت حاطب کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت حاطب خوبصورت جسم کے مالک تھے۔ہلکی داڑھی تھی۔گردن جھکی ہوئی تھی۔پست قامتی کی طرف مائل اور موٹی انگلیوں والے تھے۔یعقوب بن عتبہ سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اپنی وفات کے دن چار ہزار درہم اور دینار چھوڑے۔آپ غلہ وغیرہ کے تاجر تھے اور آپ نے اپنا تر کہ مدینہ میں چھوڑا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 61 مطبوعه دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حاطب کا غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے مالک حضرت حاطب کی شکایت لے کر آیا۔غلام نے کہا کہ اے اللہ کے رسول حاطب ضرور جہنم میں داخل ہو گا۔( کوئی سخت ست اس کو کہا ہو گا)۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تُو نے جھوٹ بولا ہے۔وہ اس میں ہر گز داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ میں شامل ہوا تھا۔(سنن الترمذی ابواب المناقب باب فيمن سب اصحاب النبى عمل اللہ حدیث 3864) جیسا کہ بتایا گیا کہ حضرت حاطب جو تھے وہ تاجر بھی تھے۔منڈی میں مال فروخت کیا کرتے تھے اور مال فروخت کرنے اور قیمتوں کے مقرر کرنے کی جو اسلامی تعلیم ہے وہ کیا ہے؟ اس کا ذکر کرتے ہوئے ان کے حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ نے بات بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے مدینہ منورہ میں قیمتوں پر اسلامی حکومت تصرف رکھتی تھی۔یعنی مارکیٹ کی جو قیمتیں ہوتی تھیں وہ اسلامی حکومت قیمتیں مقرر کرتی تھی۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ مدینہ کے بازار میں پھر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص حاطب بن ابی بلتعہ الفصلی نامی بازار میں دو بورے سُوکھے انگوروں کے رکھے بیٹھے تھے۔سوکھے انگور کہہ لیں یا بعض جگہ کشمش لکھا ہوا ہے۔حضرت عمرؓ نے ان سے بھاؤ دریافت کیا تو انہوں نے ایک درہم کے دو مڈ بتائے کہ ایک درہم میں دو مڈ آتے ہیں۔یہ جو قیمت تھی، جو بھاؤ تھا، یہ بازار کی عام قیمت سے سستا تھا۔اس پر حضرت عمر نے ان کو حکم دیا کہ اپنے گھر جا کر فروخت کریں کیونکہ یہ بہت سستا ہے مگر بازار میں اس قدر سستے نرخ پر فروخت نہیں کرنے دیں گے کیونکہ اس سے بازار کا بھاؤ خراب ہوتا ہے اور لوگوں کو بازار والوں پر بد ظنی پیدا ہوتی ہے۔مارکیٹ کی جو زیادہ قیمت ہے اس پر پھر لوگ کہیں گے کہ وہ ہمارے سے ناجائز قیمت لے رہے ہیں۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ فقہاء نے اس پر بڑی بحثیں کی ہیں۔بعض نے ایسی روایات بھی نقل کی ہیں کہ بعد میں حضرت عمر نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا تھا۔لیکن بہر حال یہ بات ہے کہ بالعموم فقہاء نے حضرت عمر کی رائے کو ایک قابل عمل اصل کے طور پر تسلیم کیا ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ریٹ (rate) مقرر کرے۔بازار کی قیمتیں مقرر کرے۔ورنہ قوم کے اخلاق اور دیانت میں فرق پڑ جائے گا۔مگر یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اس جگہ انہی اشیاء کا ذکر ہے جو منڈی میں لائی جائیں لا کے کھلی مارکیٹ میں