خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 354

خطبات مسرور جلد 16 354 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 ہم نے کہا تمہیں خط نکالنا ہو گا ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے اور تلاشی لیں گے۔اس پر اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا اور ہم وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے مشرکوں کے نام۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارادے کی ان کو اطلاع دے رہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب بن ابی بلتعہ کو بلایا اور پوچھا حاطب یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ میرے متعلق جلدی نہ فرمائیں۔میں ایک ایسا آدمی تھا جو قریش میں آکر مل گیا تھا ان میں سے نہ تھا۔اور دوسرے مہاجرین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان کی مکہ میں رشتہ داریاں تھیں جن کے ذریعہ سے وہ اپنے گھر بار اور مال و اسباب کو بچاتے رہے ہیں۔میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر کوئی احسان کر دوں کیونکہ ان میں کوئی رشتہ داری تو میری تھی نہیں شاید وہ اس احسان ہی کی وجہ سے میرا پاس کریں۔اور میں نے کسی کفر یا ارتداد کی وجہ سے یہ نہیں کیا۔(نہ میں نے انکار کیا ہے۔نہ مرتد ہو ا ہوں۔نہ میں نے اسلام کو چھوڑا ہے۔نہ میں منافق ہوں۔میں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا۔) اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کبھی پسند نہیں کیا جا سکتا۔( میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے تم سے سچ بیان کیا ہے۔حضرت عمر وہاں موقع پر موجود تھے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔قتل کر دوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو جنگ بدر میں موجود تھا اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو دیکھا اور فرمایا جو تم چاہو کرو میں نے تمہارے گناہوں کی پردہ پوشی کر دی ہے۔(ماخوذ از صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الجاسوس حدیث 3007 ترجمہ و تشریح ماخوذ از حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جلد 5 صفحہ 350 تا 352 نظارت اشاعت ربوہ ) حضرت ولی اللہ شاہ صاحب صحیح بخاری کی ایک اور حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ایک اور حدیث میں اس عورت کو مشرکہ کہا گیا ہے اور اس کے تعاقب میں جانے والے حضرت علی، حضرت ابو مریمہ غنوی اور حضرت زبیر تھے۔اسی طرح لکھا ہے کہ وہ عورت اپنے اونٹ پر سوار چلی جارہی تھی۔خط کے چھپانے کے متعلق دوسری روایت میں لکھا ہے کہ جب اس نے ہمیں سنجیدہ دیکھا تو وہ اپنی کمر پر بندھی ہوئی چادر کی طرف جھکی اور خط نکال کر رکھ دیا۔ہم اس عورت کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے خیانت کی ہے۔یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرمایا کیا وہ (یعنی حاطب بن ابی بلتعہ ) جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے نہیں تھا؟ آپ نے فرمایا امید ہے اللہ نے اہل بدر کو دیکھا ہو اور یہ کہا ہو جو تم چاہو کرو تمہارے لئے جنت ہو چکی۔یا فرمایا میں نے تمہاری پردہ پوشی کر کے تم کو معاف کر دیا ہے۔یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔(ماخوذاز صحیح البخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدر أحدیث 3983 ترجمه و تشریح از حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جلد 8 صفحہ 53 تا 55 نظارت اشاعت ربوہ ) حضرت ابو بکر نے بھی حضرت حاطب کو مقوقس کے پاس مصر بھیجا تھا اور ایک معاہدہ ترتیب دیا تھا جو