خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 353

خطبات مسرور جلد 16 353 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 جو خط مقوقس کو لکھا گیا تھا اس کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات زائد بیان فرمائی ہے کہ : " یہ خط بعینہ وہی ہے " اسی طرح کا خط ہے۔وہی الفاظ ہیں "جو روم کے بادشاہ کو لکھا گیا تھا۔صرف یہ فرق ہے کہ اس میں یہ لکھا تھا کہ اگر تم نہ مانے تو رومی رعایا کے گناہوں کا بوجھ بھی تم پر ہو گا اور اس میں یہ تھا کہ قبطیوں کے گناہوں کا بوجھ تم پر ہو گا۔جب حاطب رضی اللہ عنہ مصر پہنچے تو اس وقت مقوقس اپنے دارالحکومت میں نہیں تھا بلکہ اسکندریہ میں تھا۔حاطب اسکندریہ گئے جہاں بادشاہ نے سمندر کے کنارے ایک مجلس لگائی ہوئی تھی۔حاطب بھی ایک کشتی میں "ہو سکتا ہے وہ وہاں کہیں جزیرہ ہو " سوار ہو کر اس مقام تک گئے اور چونکہ ارد گرد پہرہ تھا انہوں نے دور سے خط کو بلند کر کے آوازیں دینی شروع کیں۔بادشاہ نے حکم دیا کہ اس شخص کو لایا جائے اور اس کی خدمت میں پیش کیا جائے۔" پھر آپ نے یہ بھی لکھا کہ حاطب نے مقوقس کو یہ بھی کہ کہ۔۔۔خدا کی قسم موسیٰ نے عیسی کے متعلق ایسی خبریں نہیں دیں جیسی کہ عیسی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دی ہیں اور ہم تمہیں اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتے ہیں جس طرح تم لوگ یہودیوں کو عیسی کی طرف بلاتے ہو۔" پھر کہنے لگے کہ " ہر نبی کی ایک اُمت ہوتی ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کرے۔پس جبکہ تم نے اس نبی کا زمانہ پایا ہے" جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے نبی بنا کے بھیجا ہے " تو تمہارا فرض ہے کہ اس کو قبول کرو اور ہمارا دین تم کو مسیح کی اتباع سے روکتا نہیں بلکہ ہم تو دوسروں کو بھی حکم دیتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان لائیں۔" " (دیباچہ تفسیر القرآن ، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 322) یہ وہ لوگ تھے جو بڑی جرات سے اور بڑی حکمت سے تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔کوئی حاکم ہے یا والی ہے یا بادشاہ ہے کسی کے سامنے کبھی ان کو خوف نہیں ہوا۔پھر مکہ والوں کی طرف عورت کے خط لے جانے کا جو واقعہ آتا ہے یہ حاطب بن ابی بلتعہ ہی تھے جنہوں نے اس عورت کے ہاتھ مکہ والوں کے لئے خط بھیجا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی اطلاع دی تھی۔چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فتح مکہ کے لئے لشکر کے ساتھ کوچ فرمایا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے قریش مکہ کو ایک عورت کے ہاتھ خط بھیجا۔حضرت سید زین العابدین شاہ صاحب نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے کہ اس واقعہ کی تفصیل سے سے قبل امام بخاری نے یہ قرآنی آیت لکھی ہے کہ لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَ عَدُوِّكُمْ أَوْلِیا۔کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو کبھی دوست نہ بناؤ۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا۔آپ نے فرمایا تم چلے جاؤ جب تم روضَہ خاخ ایک جگہ ہے وہاں پہنچو تو وہاں ایک نشتر سوار عورت ہو گی اور اس کے پاس ایک خط ہے تم وہ خط اس سے لے لو۔ہم چل پڑے۔ہمارے گھوڑے سرپٹ دوڑتے ہوئے ہمیں لے گئے۔جب ہم روضہ خاخ میں پہنچے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک شتر سوار عورت موجود ہے۔ہم نے اسے کہا کہ خط نکالو۔وہ کہنے لگی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔