خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 352

خطبات مسرور جلد 16 352 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 نام خط لکھوایا اور خط لکھوا کر حاطب کے حوالے کیا۔اس خط کی عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ : خدا کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے یہ خط محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام قبطیوں کے رئیس مقوقس کی طرف سے ہے آپ پر سلامتی ہو۔میں نے آپ کا خط اور آپ کے مفہوم کو سمجھا اور آپ کی دعوت پر غور کیا۔میں یہ ضرور جانتا تھا کہ ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے مگر میں خیال کرتا تھا کہ وہ ملک شام میں پید اہو گا (نہ کہ عرب میں ) اور میں آپ کے سفیر کے ساتھ عزت سے پیش آیا ہوں اور میں اس کے ساتھ دو لڑ کیاں بھجوا رہا ہوں جنہیں قبطی قوم میں بڑا درجہ حاصل ہے۔یہ اعلیٰ خاندان کی لڑکیاں ہیں اور میں کچھ پار چات بھی بھجوا رہا ہوں اور آپ کی سواری کے لئے فیچر بھی بھجوا رہا ہوں۔والسلام۔اس کے بعد اس کے دستخط۔اس خط سے ظاہر ہے کہ مقوقس مصر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کے ساتھ عزت سے پیش آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی میں ایک حد تک دلچسپی بھی لی مگر بہر حال اس نے اسلام قبول نہیں کیا اور دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ عیسائی مذہب پر ہی اس کی وفات ہوئی۔اس کی گفتگو کے انداز سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ بیشک مذہبی امور میں دلچسپی تو لیتا تھا مگر جو سنجید گی اس معاملے میں ضروری ہے وہ اسے حاصل نہیں تھی۔اس لئے اس نے بظاہر مؤدبانہ رنگ رکھتے ہوئے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ٹال دیا۔جو دو لڑکیاں مقوقس نے بھجوائی تھیں ان میں سے ایک کا نام ماریہ اور دوسری کا نام سینٹرین تھا اور یہ دونوں آپس میں بہنیں تھیں اور جیسا کہ مقوقس نے اپنے خط میں لکھا تھا وہ قبطی قوم میں سے تھیں اور یہ وہی قوم ہے جس سے خود مقوقس کا تعلق تھا اور یہ لڑکیاں عام لوگوں میں سے نہیں تھیں بلکہ مقوقس کی اپنی تحریر کے مطابق اُنہیں قبطی قوم میں بڑا درجہ حاصل تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ دراصل معلوم ہوتا ہے کہ مصریوں میں یہ پرانا دستور تھا کہ اپنے ایسے معزز مہمانوں کو جن کے ساتھ وہ تعلقات بڑھانا چاہتے تھے رشتہ کے لئے اپنے خاندان یا اپنی قوم کی شریف لڑکیاں پیش کر دیتے تھے تا کہ ان سے شادی ہو جائے۔آپ لکھتے ہیں کہ چنانچہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مصر میں تشریف لے گئے تو مصر کے رئیس نے انہیں بھی ایک شریف لڑکی یعنی حضرت ہاجرہ رشتہ کے لئے پیش کی تھی جو بعد میں حضرت اسماعیل اور ان کے ذریعہ بہت سے عرب قبیلوں کی ماں بنی۔بہر حال مقوقس کی بھجوائی ہوئی لڑکیوں کے مدینہ پہنچنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ کو تو خود اپنے عقد میں لے لیا اور ان کی بہن سیرین کو عرب کے مشہور شاعر حسان بن ثابت کے عقد میں دے دیا۔یہ ماریہ وہی مبارک خاتون ہیں جن کے بطن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جو زمانہ نبوت کی گویا واحد اولاد تھی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دونوں لڑکیاں مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی حاطب بن ابی بلتعہ کی تبلیغ سے مسلمان ہو گئی تھیں۔جو فیچر اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں آئی تھی وہ سفید رنگ کی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اکثر سواری فرمایا کرتے تھے اور غزوہ حنین میں بھی یہی فیچر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے تھی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 818تا821)