خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 351

خطبات مسرور جلد 16 351 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 یہ خط تھا جو آپ نے اس والی کو بھیجا۔جب حاطب بن ابی بلتعہ اسکندریہ پہنچے تو مقوقس کے حاجب یعنی دربان سے مل کر اس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔مقوقس نے خط پڑھا اور پھر حاطب بن ابی بلتعہ سے مخاطب ہو کر نیم مذاقیہ رنگ میں کہا کہ اگر تمہارا یہ صاحب ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) واقعی خدا کا نبی ہے تو ( اس خط کے بھیجوانے کی بجائے) اس نے میرے خلاف خدا سے یہ دعا ہی کیوں نہ کی کہ خدا اسے مجھ پر مسلط کر دے۔( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس والی پر مسلط کر دے۔) حاطب نے جواب دیا کہ اگر یہ اعتراض درست ہے جو تم کر رہے ہو تو یہ اعتراض حضرت عیسی پر بھی پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفوں کے خلاف اس قسم کی دعا کیوں نہیں کی تھی۔پھر حاطب نے مقوقس کو ازراہ نصیحت کہا کہ آپ سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں کیونکہ اس سے پہلے آپ کے اسی ملک مصر میں ایک ایسا شخص (یعنی فرعون) گزر چکا ہے جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہی ساری دنیا کا رب اور حاکم اعلیٰ ہے جس پر خدا نے اسے ایسا پکڑا کہ وہ اگلوں اور پچھلوں کے لئے عبرت بن گیا۔پس میں آپ سے مخلصانہ طور پر عرض کروں گا کہ آپ دوسروں کے حالات سے عبرت پکڑیں اور ایسے نہ بنیں کہ دوسرے لوگ آپ کے حالات سے عبرت پکڑیں۔والی نے جب دیکھا کہ اتنی جرات سے بول رہے ہیں تو کہنے لگا بات یہ ہے کہ ہمیں پہلے سے ایک دین حاصل ہے اس لئے جب تک ہمیں اس سے کوئی بہتر دین نہ ملے ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے یعنی عیسائیت کو نہیں چھوڑ سکتے۔حاطب رضی اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسلام وہ دین ہے جو سب دوسرے دینوں سے غنی کر دیتا ہے۔(آخری دین ہے اور سب دین اس میں سمٹ گئے ہیں۔لیکن وہ یقینا آپ کو اس بات سے نہیں روکتا کہ آپ حضرت مسیح ناصری پر بھی ایمان لائیں بلکہ وہ سب سچے نبیوں پر ایمان لانے کی تلقین کرتا ہے اور جس طرح حضرت موسیٰ نے حضرت عیسی کی بشارت دی تھی اسی طرح حضرت عیسی نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت بھی دی ہے۔اس پر مقوقس کچھ سوچ میں پڑ کر خاموش ہو گیا۔مگر اس کے بعد ایک دوسری مجلس میں جبکہ بعض بڑے بڑے پادری بھی موجود تھے مقوقس نے حاطب سے پھر کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تمہارے نبی اپنے وطن سے نکالے گئے تھے۔تو جب تمہارے نبی اپنے وطن سے مکہ سے نکالے گئے تو انہوں نے اس موقع پر اپنے نکالنے والوں کے خلاف بد دعا کیوں نہ کی تاکہ وہ لوگ ہلاک کر دیئے جاتے اور نبی امن میں رہتے۔حاطب نے یہ بات سنی تو اس والی کو جواب دیا کہ ہمارے نبی تو صرف وطن سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے مگر آپ کے مسیح کو تو یہودیوں نے پکڑ کر سولی کے ذریعہ ختم ہی کر دینا چاہا مگر پھر بھی وہ اپنے مخالفوں کے خلاف بد دعا کر کے انہیں ہلاک نہ کر سکے۔مقوقس نے جب جواب سنا تو متاثر ہوا۔کہنے لگا کہ تم بیشک ایک عظمند انسان ہو اور ایک دانا انسان کی طرف سے سفیر بن کر آئے ہو۔اس کے بعد کہنے لگا کہ میں نے تمہارے نبی کے معاملے میں غور کیا ہے۔کہنے لگا کہ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے واقعی کسی بری بات کی تعلیم نہیں دی اور نہ کسی اچھی بات سے روکا ہے۔پھر اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ایک ہاتھی دانت کی ڈبیہ میں رکھ کر اس پر اپنی مہر لگائی اور اسے حفاظت کے لئے اپنے گھر کی ایک معتبر لڑکی کے سپرد کر دیا۔بہر حال اس خط سے اس نے عزت کا سلوک کیا۔اس کے بعد مقوقس نے اپنے ایک عربی دان کاتب کو بلایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے