خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 27
خطبات مسرور جلد 16 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 آپ نے بطور ایڈیشنل ناظر اعلیٰ خدمات سر انجام دیں۔مختلف کمیٹیوں کے ممبر کے طور پر بھی خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔اکتوبر 1988ء سے ستمبر 1991ء تک بطور ناظر امور عامه خدمات سر انجام دیں۔اگست 1992ء سے مئی 2003ء تک ناظر امور خارجہ رہے اور اس کے بعد میری خلافت کے دوران میں نے ان کو پھر ناظر اعلیٰ مقرر کیا اور امیر مقامی ربوہ بھی۔اور بڑے احسن رنگ میں انہوں نے یہ خدمت سر انجام دی۔تقریباً بارہ تیرہ سال مجلس افتاء کے بھی ممبر رہے۔بارہ تیرہ سال قضاء بورڈ کے بھی ممبر رہے۔1973ء میں ان کو اللہ تعالیٰ نے حج کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ان کا نکاح 26 دسمبر 1955ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے پڑھایا تھا۔اور پانچ چھ مختلف نکاح تھے جو اس وقت پڑھائے اور مرزا خورشید احمد صاحب کے بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خطبہ میں جوارشاد فرمایا وہ یہ تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ یہ لڑکا بھی ہمارے خاندان میں سے وقف ہے۔مرزا عزیز احمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اپنے اس بچے کو اعلیٰ تعلم دلائیں۔چنانچہ ان کا یہ لڑکا ایم اے میں پڑھ رہا ہے۔ابھی پاس تو نہیں ہوا ( یعنی ایم اے مکمل نہیں کیا) مگر انگریزی میں ایم اے کا امتحان دے رہا ہے اور کہتے ہیں کہ انگریزی میں بڑا لائق ہے۔میرا ارادہ ہے کہ بعد میں یہ کالج میں پروفیسر کے طور پر کام کرے اور پھر باقیوں کے ساتھ یہ بھی فرمایا تھا کہ ترجمانی میں بھی کام آئیں گے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 622تا625 خطبہ فرمودہ 26دسمبر 1955ء) اللہ تعالیٰ نے ان کو چھ بیٹیوں سے نوازا اور چار بیٹے ان کے واقف زندگی ہیں۔دو ڈاکٹر ہیں ایک نظارت تعلیم میں نائب ناظر ہیں۔انہوں نے پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔اور اسی طرح ایک مشیر قانونی کے دفتر میں اسسٹنٹ کے طور پہ ہیں انہوں نے لاء (Law) کیا ہوا ہے۔ذیلی تنظیموں میں بھی مختلف حیثیتوں سے کام کرنے کی توفیق ملی۔2000ء سے 2003ء تک صدر انصار اللہ پاکستان بھی رہے۔ان کے ایک بیٹے ڈاکٹر مرزا سلطان احمد لکھتے ہیں کہ ان کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے بہت زیادہ محبت تھی۔چند سال قبل ان کو دل کی تکلیف شروع ہوئی بلکہ کافی عرصے سے تھی لیکن آہستہ آہستہ بڑھتی رہی۔زیادہ ہو گئی۔یہ سفر پہ اوکاڑہ گئے ہوئے تھے وہاں سے ان کا پتا لگا تو ان کے ایک بیٹے ان کو لینے گئے۔ڈاکٹر نوری بھی ساتھ تھے۔یہ اُدھر سے آرہے تھے تو راستے میں ہی ملاقات ہو گئی۔مرزا خورشید احمد صاحب کہنے لگے کہ سارا راستہ میں یہ دعا کرتا رہا کہ میں ربوہ پہنچ جاؤں اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے قدموں میں جان نکلے۔یعنی وہ بستی جہاں آپ دفن ہیں اور جو آپ نے آباد کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے عشق و محبت کی یہ کہانی تھی۔پھر یہی لکھتے ہیں کہ جب یہ بیمار ہوئے تو بیماری میں ایک رات بڑی بے چینی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے ابھی میں نے ایک لمبی خواب دیکھی ہے کہ بعض لوگ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی پر اعتراض کر رہے ہیں اور لوگ اس کا جواب نہیں دے رہے۔اس وجہ سے آپ بہت پریشان تھے کہ لوگ جو اب کیوں نہیں دے رہے اور پھر اسی بے چینی میں دوبارہ سوئے بھی نہیں۔یہ اکثر کہا کرتے تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے مخالفین کا بغض بہت زیادہ ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی زیادہ ہے کیونکہ مخالفین کا یہ خیال ہے اور یہ کسی حد تک درست ہے بلکہ کافی حد تک درست ہے کہ حضرت خلیفۃ