خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 350
خطبات مسرور جلد 16 350 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 سامان اور اس کا گھوڑا پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سارا کچھ سامان حضرت حاطب کو دے دیا اور حضرت حاطب کے لئے دعا کی۔آپ نے فرمایا اللہ تجھ سے راضی ہو۔اللہ تجھ سے راضی ہو۔( دودفعہ فرمایا۔) (كتاب السنن الكبرى للبيهقى جماع ابواب الانفال باب السلم للقاتل حديث 13041 جزء6 صفحہ 504 مكتبة الرشد ناشرون 2004ء) حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی وفات 30 ہجری میں مدینہ میں 65 سال کی عمر میں ہوئی۔حضرت عثمان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔(الطبقات الکبرى جلد 3 صفحہ 61 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط مقوقس کو بھیجا تھا اس کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہوا ہے کہ یہ تیسر اخط تھا جو بادشاہوں کو بھیجا گیا۔(سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 818) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بیان فرمایا کہ چوتھا خط تھا۔(دیباچه رض به تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 321) بہر حال اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے سربراہوں اور بادشاہوں کو جو خط لکھے گئے تھے ان میں سے ایک خط مقوقس والی مصر کے نام بھی تھا جو قیصر کے ماتحت مصر اور اسکندریہ کا والی یعنی موروثی حاکم تھا اور قیصر کی طرح مسیحی مذہب کا پیر و تھا۔اس کا ذاتی نام مجر سج بن مینا تھا اور وہ اور اس کی رعایا قبطی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔یہ خط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھ بھجوایا۔اور اس خط کے الفاظ یہ تھے : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُوْلِهِ إِلَى الْمُقَوْقَسِ عَظِيْمِ الْقِبْطِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي اَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تُسْلَمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْقِبْطِ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ۔یعنی میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بن مانگے رحم کرنے والا اور اعمال کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔یہ خط محمد خدا کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے قبطیوں کے رئیس مقوقس کے نام ہے۔سلامتی ہو اس شخص پر جو ہدایت کو قبول کرتا ہے۔اس کے بعد اے والی مصر ! میں آپ کو اسلام کی ہدایت کی طرف بلاتا ہوں۔مسلمان ہو کر خدا کی سلامتی کو قبول کرو کہ اب صرف یہی نجات کا رستہ ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو دوہرا اجر دے گا۔لیکن اگر آپ نے رُوگردانی کی تو (علاوہ خود آپ کے اپنے گناہ کے) قبطیوں کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہو گا۔اور اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی صورت میں خدا کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں اور خدا کو چھوڑ کر اپنے میں سے ہی کسی کو اپنا آقا اور حاجت روانہ گردانیں۔پھر اگر ان لوگوں نے روگردانی کی تو ان سے کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو بہر حال خدائے واحد کے فرمانبر دار بندے ہیں۔