خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 349

خطبات مسرور جلد 16 349 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 اسد کے حلیف تھے۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی کنیت ابو محمد تھی۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اہل یمن میں سے تھے۔عاصم بن عمر روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اور آپ کے غلام سعد نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو دونوں حضرت مُنذر بن محمد بن عقبہ کے پاس رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اور حضرت رُخیلہ بن خالد کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم فرمایا اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عویم بن ساعدہ اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے در میان مواخات کا تعلق قائم کیا۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ غزوہ بدر، غزوہ اُحد ، غزوہ خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک تبلیغی خط دے کر مقوقس شاہ اسکندریہ کے پاس بھیجا۔حضرت حاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تیر اندازوں میں سے تھے۔یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ زمانہ جاہلیت میں قریش کے بہترین گھڑ سواروں اور شعراء میں سے تھے۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ عبید اللہ بن حمید کے غلام تھے اور آپ نے اپنے مالک سے مکاتبت کر کے آزادی حاصل کر لی تھی اور مکاتبت کی رقم انہوں نے فتح مکہ کے دن ادا کی تھی۔(اسد الغابه جلد 1 صفحہ 491 حاطب بن ابی بلتعة مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء)،(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 61 مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996ء)، (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 242 مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996ء)، (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 2 صفحہ 4-5 حاطب بن ابی بلتعة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت اُم سلمہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خاوند کی وفات کے بعد شادی کا جو پیغام دے کر میرے پاس بھیجا تھاوہ حاطب بن ابی بلتعہ کو بھیجا تھا۔( صحیح مسلم کتاب الجنائز باب ما يقال عند المصدر جلد 4 صفحہ 80 حدیث 1516 متر جم نور فاؤنڈیشن) ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک نے حاطب بن ابی بلتعہ سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے دن میری طرف متوجہ ہوئے۔جنگ کے بعد جب ذرا حالات بہتر ہوئے تو قریب گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں تھے۔حضرت علی کے ہاتھ میں پانی کا برتن تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی سے اپنا چہرہ دھو رہے تھے۔حاطب نے آپ سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یاغتبہ بن ابی وقاص نے میرے چہرے پر پتھر مارا ہے۔حضرت حاطب کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں نے یہ آواز پہاڑی پر سنی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے ہیں اور اس آواز کو سن کر میں اس حالت میں یہاں آیا ہوں گویا کہ میری روح نکل رہی ہے۔میری جان نکل رہی ہے۔لگتا ہے جسم میں جان نہیں۔حضرت حاطب نے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ عتبہ کہاں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اشارہ کیا کہ فلاں طرف ہے۔حضرت حاطب اس کی طرف گئے۔وہ آدمی چھپا ہوا تھا یہاں تک کہ آپ اسے قابو کرنے میں کامیاب ہو گئے۔حضرت حاطب نے تلوار کے وار سے اس کا سر اتار دیا۔پھر آپ اس کا سر اور