خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 348
خطبات مسرور جلد 16 348 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور اسلام کا پیغام پہنچانے اور اسلام کی تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے کسی آدمی کو اشارہ کیا اور اس نے اس بے گناہ اینچی کو پیچھے کی طرف سے نیزے کا وار کر کے وہیں ڈھیر کر دیا۔اس وقت جب حرام بن ملحان زخمی ہوئے تو ان کی زبان پر الفاظ تھے کہ اللہ اکبر فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ۔کہ اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم ! کہ میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔عامر بن طفیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اینچی کے قتل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بعد اپنے قبیلہ بنو عامر کے لوگوں کو اکسایا کہ وہ مسلمانوں کی بقیہ جماعت پر حملہ کریں مگر انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ ہم ابو براء کی ذمہ داری کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے اس پر عامر نے قبیلہ بنو سلیم میں سے بنورِ غل اور ذکوان اور خصیہ وغیرہ کو (یعنی وہی لوگ جو بخاری کی حدیث کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بن کر آئے تھے کہ ہمیں کچھ لوگ بھیجیں جو ہمیں تبلیغ کریں ) اپنے ساتھ لیا اور یہ سب لوگ مسلمانوں کی اس قلیل اور بے بس جماعت پر حملہ آور ہو گئے۔مسلمانوں نے جب ان وحشی درندوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ان سے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی تعریض نہیں ہے۔ہم کوئی لڑائی کرنے نہیں آئے۔ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک کام کے لئے آئے ہیں اور ہم تم سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور سب کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ان صحابیوں میں سے جو اس وقت موجود تھے صرف ایک شخص بچا جو پاؤں سے لنگڑا تھا اور پہاڑی کے اوپر چڑھ گیا ہوا تھا۔ان صحابی کا نام کعب بن زید تھا۔ان کا ذکر ہو چکا ہے۔بعض اور روایات سے پتہ لگتا ہے کہ کفار نے اس پر بھی حملہ کیا تھا جس سے وہ زخمی ہوئے تھے اور کفار انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے مگر اصل میں ان میں جان باقی تھی اور وہ بعد میں بچ گئے۔صحابہ کی اس جماعت میں سے دو شخص یعنی عمر و بن امیہ ضمری اور مُنذر بن محمد اس وقت اونٹوں وغیرہ کے چرانے کے لئے اپنی جماعت سے الگ ہو کر ادھر اُدھر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے دُور سے اپنے ڈیرے کی طرف نظر ڈالی تو انہوں نے دیکھا کہ پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ ہوا میں اڑتے پھر رہے ہیں۔وہ اس صحرائی اشارے کو خوب سمجھتے تھے۔( جب ریت میں پرندے اس طرح جھنڈ کے جھنڈ پھر رہے ہوں تو مطلب ہوتا ہے کہ نیچے ان کے لئے کھانے کا کوئی انتظام ہے۔وہ فوراً سمجھ گئے کہ کوئی لڑائی ہوئی ہے۔واپس آئے اور دیکھا تو ظالم کفار کے کشت وخون کا کارنامہ آنکھوں کے سامنے تھا۔دور سے ہی یہ نظارہ دیکھ کر انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ایک نے کہا کہ ہمیں یہاں سے فوراً نکل جانا چاہئے اور مدینہ پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دینی چاہئے۔مگر دوسرے نے اس رائے کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں تو اس جگہ سے بھاگ کر نہیں جاؤں گا۔جہاں ہمارا امیر منذر بن عمر و شہید ہوا ہے وہیں ہم لڑیں گے۔چنانچہ وہ بھی آگے بڑھے اور لڑ کر شہید ہوئے۔(ماخوذاز سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 518-519) یعنی منذر بن محمد جو اونٹ چرانے گئے ہوئے تھے جب وہ آئے تو انہوں نے بھی دشمنوں کا مقابلہ کیا اور وہیں شہید ہوئے۔اس طرح ان کی شہادت 4 ہجری میں ہوئی۔دوسرے صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ہیں۔ان کا تعلق قبیلہ تم سے تھا۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ بنو