خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 347

خطبات مسرور جلد 16 347 30 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2018ء بمطابق 27 وفا 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: صحابہ کے ذکر میں آج میں دو صحابہ کا ذکر کروں گا۔پہلے ہیں حضرت منذر بن محمد انصاری۔حضرت منذر بن محمد کا تعلق قبیلہ بنو جیا سے تھا۔مدینہ تشریف لانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت منذر بن محمد اور طفیل بن حارث کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 248 منذر بن محمد مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996ء) جب حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اور حضرت ابو ئبرہ بن ابی رھم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو انہوں نے حضرت مُنذر بن محمد کے گھر قیام کیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 55 زبیر بن العوام ، صفحہ 61 حاطب بن ابی بلتعہ صفحہ 215 ابو سبرہ بن ابی رهم مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) حضرت منذر نے غزوہ بدر اور اُحد میں شرکت کی اور بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 248 منذر بن محمد مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) بئر معونہ کا پہلے بھی ایک دو جگہ صحابہ کے واقعات میں ذکر ہو چکا ہے۔دوبارہ اس حوالے سے مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔حضرت منذر کی شہادت کی جو تفصیل "سیرت خاتم النبیین " میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صفر 4 ہجری میں منذر بن عمر و انصاری کی امارت میں صحابہ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی۔یہ لوگ عموماً انصار میں سے تھے۔ان کی تعداد ستر تھی۔سارے کے سارے قاری تھے۔یعنی قرآن خواں تھے۔جو دن کے وقت جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے ، لکڑیاں بیچتے اور پھر اپنا پیٹ پالتے۔رات کا بہت ساحصہ عبادت میں گزارتے تھے۔جب یہ لوگ اس مقام پر پہنچے جو ایک کنوئیں کی وجہ سے بئر معونہ کے نام سے مشہور تھا تو ان میں سے ایک شخص حرام بن ملحان جو انس بن مالک کے ماموں تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوت اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس اور ابو براء عامر کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس آگے گئے۔باقی صحابہ پیچھے رہے۔جب حرام بن محمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اینچی کے طور پر عامر بن طفیل اور ان کے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے شروع میں تو منافقانہ طور پر بڑی آؤ بھگت کی لیکن جب وہ