خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 345

345 خطبات مسرور جلد 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 نے بھلائی دیکھی ہے۔حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں میں نے دیکھا کہ حضرت عباد بن بشر انصار کو کو پکار رہے تھے کہ تم لوگ تلواروں کے میان توڑ ڈالو۔اور لوگوں سے جدا ہو گئے۔انہوں نے انصار میں سے چار سو آدمی چھانٹ لئے جن میں کوئی اور شامل نہ تھا جن کے آگے حضرت عباد بن بشر ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت براء بن مالک تھے۔یہ لوگ باب الحدیقہ تک پہنچے اور سخت جنگ کی۔حضرت عباد بن بشر شہید ہوئے۔میں نے ان کے چہرے پر تلوار کے اس قدر نشان دیکھے کہ صرف جسم کی علامت سے پہچان سکا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 336-337 عباد بن بشر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت سواد بن عربیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔یہ بھی انصاری تھے۔ان کا ذکر بھی آتا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عدی بن نجار سے تھا۔غزوہ بدر اور اُحد اور خندق اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک ہوئے۔غزوہ بدر میں انہوں نے خالد بن ہشام مخزومی کو قید کیا تھا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تھا۔آپ وہاں سے عمدہ کھجوریں لے کر آئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک صاع عمدہ کھجور میں دو صاع عام کھجوروں کے بدلے میں خریدیں۔(اسد الغابه جلد 2 صفحہ 590 سواد بن غزية مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجوریں پسند آئیں تو آپ نے اس کی جو موجودہ قیمت تھی وہ کھجوروں کے مقابلے میں کھجوریں دے کر خرید لیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں غزوہ بدر کے واقعات میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت سواد کی خوش بختی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ذکر ملتا ہے۔رمضان دو ہجری کی سترہ تاریخ جمعہ کا دن تھا۔عیسوی حساب سے 14 مارچ 623 عیسوی تھی۔صبح اٹھ کر سب سے پہلے نماز ادا کی گئی اور پھر پرستاران احدیت کھلے میدان میں خدائے واحد کے حضور سر بسجود ہوئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد پر ایک خطبہ فرمایا۔پھر جب ذرا روشنی ہوئی تو آپ نے ایک تیر کے اشارے سے مسلمانوں کی صفوں کو درست کرنا شروع کیا۔ایک صحابی سواد نامی صف سے کچھ آگے نکل کے کھڑا تھا۔آپ نے اسے تیر کے اشارے سے پیچھے ہٹنے کو کہا مگر اتفاق سے آپ کے تیر کی لکڑی اس کے سینے پہ جانگی۔اس نے جرآت کے انداز سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ کو خدا نے حق و انصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔یہ عجیب واقعہ ہے کہ تیر سے لائنیں سیدھی کر رہے تھے تو تیر کی لکڑی لائن سے باہر نکلے اس کے سینے پر لگ گئی۔اس نے بڑی جرات سے کہا کہ آپ کو خدا نے حق و انصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے مگر آپ نے مجھے ناحق تیر مارا ہے۔واللہ میں تو اس کا بدلہ لوں گا۔اس پر صحابہ بڑے حیران پریشان انگشت بدنداں تھے کہ سواد کو کیا ہو گیا ہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ اچھا سواد میں نے تمہیں مارا ہے تو تم بھی مجھے تیر مار لو۔آپ نے اپنے سینے سے کپڑا اٹھا دیا۔سواد نے فرط محبت سے آگے بڑھ کر آپ کا سینہ چوم لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔سواد! یہ تمہیں کیا سو جھی؟ اس نے رفت بھری آواز میں