خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 344

خطبات مسرور جلد 16 344 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 دائیں جانب ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔چنانچہ مسلمان ایک دشوار گزار اور کٹھن راستے پر پڑ کر سمندر کی جانب سے ہوتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوئے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 749-750) اور وہاں پہنچے۔آگے پھر صلح حدیبیہ کا سارا واقعہ ہے تو عباد بن بشر بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کو ایک دستہ کا سوار بنا کر معلومات لینے کے لئے بھیجا۔بہت قابل اعتبار قابل اعتماد صحابی تھے جن پہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ اعتماد تھا۔حضرت عباد بن بشر حدیبیہ کے موقع پر ہونے والی بیعت جس کو بیعتِ رضوان کہا جاتا ہے اس میں شامل ہونے والے صحابہ کرام میں سے ہیں۔غزوہ ذات الرقاع کا ایک واقعہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات ایک جگہ پر قیام فرمایا۔اس وقت تیز ہوا چل رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی پر فروکش ہوئے تھے۔آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ کون ہے جو آج رات ہمارے لئے پہرہ دے گا۔اس پر حضرت عباد بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کا پہرہ دیں گے۔اس کے بعد وہ دونوں گھائی کی چوٹی پر بیٹھ گئے۔پھر حضرت عباد بن بشر نے حضرت عمار بن یاسر سے کہا کہ ابتدائی رات میں پہرہ دے لوں گا اور ان کو کہا کہ تم جاکر سو جاؤ۔اور آخر رات میں تم پہرہ دے دینا تا کہ میں سو جاؤں۔چنانچہ حضرت عمار بن یاسر تو سو گئے اور حضرت عباد بن بشر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ادھر مسجد کے علاقے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اُن کی زیادتیوں کی وجہ سے عورتوں کو جو پکڑا تھا تو ان میں سے ایک عورت کا شوہر اس وقت غائب تھا۔اگر وہ ہو تا تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہوتی لیکن بہر حال جب وہ واپس آیا تو اسے پتہ چلا کہ اس کی بیوی کو مسلمانوں نے قیدی بنالیا ہے۔اس نے اسی وقت قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھوں گا جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچالوں یا ان کے اصحاب کا خون نہ بہا لوں۔چنانچہ وہ پیچھا کرتا ہوا اس وادی کے قریب آیا جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فروکش تھے۔جب اس نے وادی کے درہ پر حضرت عباد بن بشر کا سایہ دیکھا تو بولا کہ یہ دشمن کا پہریدار ہے۔اس نے تیر کمان پر چڑھا کر چلا دیا جو حضرت عباد بن بشر کے جسم میں پیوست ہو گیا۔حضرت عباد بن بشر اس وقت نماز میں مصروف تھے۔انہوں نے تیر نکال کر پھینک دیا اور نماز جاری رکھی اس نے دوسرا تیر مارا۔وہ بھی انہیں لگا۔انہوں نے اس کو بھی نکال کے پھینک دیا۔پھر جب تیسرا تیر مارا تو حضرت عباد بن بشر کا کافی خون بہہ نکلا۔انہوں نے نماز مکمل کی اور حضرت عمار بن یاسر کو جگایا۔جب حضرت عمار بن یاسر نے حضرت عباد بن بشر کو زخمی حالت میں دیکھا تو پوچھا کہ پہلے کیوں نہیں جگایا۔تو کہنے لگے کہ میں نماز میں سورۃ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔میر ادل نہیں چاہا کہ میں نماز کو توڑوں۔(السيرة الحلبية جلد دوم صفحه 368-369 غزوہ ذات الرقاع دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) یہ تھی ان لوگوں کی عبادتوں کی حالت۔حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عباد بن بشر کو کہتے ہوئے سنا کہ اے ابو سعید ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ آسمان میرے لئے کھول دیا گیا۔پھر ڈھانک دیا گیا۔کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ مجھے شہادت نصیب ہو گی۔میں نے کہا اللہ کی قسم تو