خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 343
خطبات مسرور جلد 16 343 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں آپ نے عباد بن بشر کی آواز سنی جو مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا عائشہ کیا یہ عباد کی آواز ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ عباد پر رحم کر۔اسی طرح حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو شخص ایک تاریک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے۔ان میں سے ایک حضرت عباد بن بشر تھے اور دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ حضرت اُسید بن حضیر تھے اور ان کے ساتھ دو چراغ جیسے تھے جو ان کے سامنے روشنی کر رہے تھے۔جب وہ دونوں جدا جدا ہوئے تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ ہو گیا۔( رات کو اندھیرے میں روشنی دکھانے کے لئے۔آخر وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے۔عمى (صحيح البخاری کتاب الصلوة باب منه حديث 465) (صحیح البخاری کتاب الشهادات باب شهادة الاع۔۔۔الخ حدیث 2655) (اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 149-150- عباد بن بشر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) صلح حدیبیہ کے سفر میں بھی یہ شامل تھے۔اس سفر کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اوپر چودہ سو صحابیوں کی جمعیت کے ساتھ ذوقعدہ 16 ہجری کے شروع میں پیر کے دن بوقت صبح مدینہ سے روانہ ہوئے اور اس سفر میں آپ کی زوجہ محترمہ حضرت اُم سلمہ آپ کے ہم رکاب تھیں۔اور مدینہ کا امیر نمیکہ بن عبد اللہ کو اور امام الصلوۃ عبد اللہ بن ام مکتوم کو جو آنکھوں سے معذور تھے مقرر کیا گیا تھا۔جب آپ ذوالحلیفہ میں پہنچے جو مدینہ سے قریباً چھ میل کے فاصلے پر مکہ کے رستے پر واقع ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرنے کا حکم دیا اور نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد قربانی کے اونٹوں کو جو تعداد میں ستر تھے نشان لگائے جانے کا ارشاد فرمایا اور صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ حاجیوں کا مخصوص لباس یعنی جو احرام کہلا تا ہے وہ پہن لیں اور آپ نے خود بھی احرام باندھ لیا اور پھر قریش کے حالات کا علم حاصل کرنے کے لئے کہ آیا وہ کسی شرارت کا ارادہ تو نہیں رکھتے ایک خبر رساں بُنسر بن سُفیان نامی کو جو قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھتا تھا جو مکہ کے قریب آباد تھے آگے بھجوا کر آہستہ آہستہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور مزید احتیاط کے طور پر مسلمانوں کی بڑی جمعیت کے آگے آگے رہنے کے لئے عباد بن بشر کی کمان میں ہیں سواروں کا ایک دستہ بھی متعین فرمایا۔جب آپ چند روز کے سفر کے بعد عسفان کے قریب پہنچے جو مکہ سے تقریباً دو منزل کے راستے پر واقع ہے تو آپ کے خبر رساں نے واپس آکر آپ کی خدمت میں اطلاع دی کہ قریش مکہ بہت جوش میں ہیں اور آپ کو روکنے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہیں حتی کہ ان میں سے بعض نے اپنے جوش اور وحشت کے اظہار کے لئے چیتوں کی کھالیں پہن رکھی ہیں اور جنگ کا پختہ عزم کر کے بہر صورت مسلمانوں کو روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ قریش نے اپنے چند جانباز سواروں کا ایک دستہ خالد بن ولید کی کمان میں جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے آگے بھیجوا دیا ہے اور یہ کہ یہ دستہ اس وقت مسلمانوں کے قریب پہنچا ہوا ہے اور اس دستہ میں عکرمہ بن ابو جہل بھی شامل ہے۔یہ خبریں آپ کو دی گئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سنی تو تصادم سے بچنے کی غرض سے صحابہ کو حکم دیا کہ مکہ کے معروف راستے کو چھوڑ کر