خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 342

خطبات مسرور جلد 16 مطابق ہے 342 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 دیں۔اگر یہودی قتل کیا جانا غلط سمجھتے کہ نہیں اس طریقے سے غلط کیا گیا ہے تو خاموش نہ ہوتے بلکہ خون بہا کا مطالبہ کرتے۔یہ مطالبہ تو انہوں نے نہیں کیا اور خاموشی دکھائی تو یہ تمام باتیں بتاتی ہیں کہ اس وقت کے قانون کے یہ قتل جائز تھا۔کیونکہ جو فتنہ یہ پھیلا رہا تھا یہ قتل سے بھی بڑھ کر تھا اور یہی ایسے مجرم کی سزا تھی اور ہونی اہئے تھی اور اس وقت کے رواج کے مطابق جب اس کو سزا دی گئی تو جیسا کہ میں نے کہا اس طرح سزا دی جاسکتی تھی۔اس رواج کے مطابق اگر سزادی جاسکتی تھی جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں اور یہودیوں کے رویے سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے تو پھر اعتراض کی بھی گنجائش نہیں۔اگر نہ دی جا سکتی ہوتی تو یہودی یقیناً سوال اٹھاتے کہ مقدمہ چلا کر اور پھر ظاہر اکھلے طور پر سزا کیوں نہیں دی گئی۔پس یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اس کا یہ قتل بالکل جائز تھا اور یہ سزا تھی لیکن یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ آجکل کے شدت پسند گروہ ایسی باتوں سے غلط sense میں بات کرتے ہیں اور اسی طرح حکومتیں بھی اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا قتل کرنا جائز ہے۔اول تو فتنہ اس طرح پھیلایا نہیں جارہا۔جن کو قتل کیا جاتا ہے وہ فتنہ پھیلانے والوں میں نہیں ہیں۔دوسرے صرف وہاں مجرم کو سزا دی گئی تھی نہ اس کے خاندان کو نہ کسی اور کو۔یہ لوگ جب قتل کرتے ہیں تو معصوموں کو قتل کر رہے ہیں۔عورتوں کو قتل کر رہے ہیں۔بچوں کو قتل کر رہے ہیں۔کئی لوگوں کو اپانج کر رہے ہیں۔بہر حال آجکل کے قاعدہ اور قانون کے مطابق یہ چیز جائز نہیں اور اُس وقت وہ سزا صحیح تھی اور واجب تھی اور حکومت نے اس کو دی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباد بن بشر کو بنو سلیم اور مزینہ کے پاس صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا۔حضرت عباد بن بشر ان کے پاس دس دن مقیم رہے۔وہاں سے واپسی پر بنو مصطلق سے صدقہ وصول کرنے گئے۔وہاں بھی آپ کا قیام دس دن کا رہا۔اس کے بعد آپ واپس مدینہ آگئے۔اسی طرح یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباد بن بشر کو غزوہ حنین کے مال غنیمت کا عامل مقرر فرمایا تھا اور غزوہ تبوک میں آپ کو اپنے پہرے کا نگران مقرر فرمایا تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 336 عباد بن بشر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) آپ کا شمار فاضل صحابہ کرام میں ہوتا تھا۔حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ انصار میں سے تین شخص ایسے تجھے کہ ان کے اوپر انصاری صحابہ میں سے کسی اور کو افضل شمار نہیں کیا جاسکتا اور وہ سب کے سب قبیلہ بنو عبدُ الا شکل میں سے تھے۔وہ تین یہ تھے۔حضرت سعد بن معاذ، حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر۔حضرت عباد بن بشر سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے انصار کے گروہ تم لوگ میرے شکار ہو۔( یعنی وہ کپڑا جو سب کپڑوں سے نیچے ہو تا ہے اور بدن سے ملا رہتا ہے۔) اور باقی لوگ دشمار ہیں۔( یعنی وہ چادر جو اوپر اوڑھی جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اطمینان ہے کہ تمہاری طرف سے مجھے کوئی تکلیف دہ بات نہیں پہنچے گی۔حضرت عباد بن بشر جنگ یمامہ میں 45 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔