خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 341

خطبات مسرور جلد 16 341 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 اور صحابیوں کو اپنے ساتھ لیا اور کعب کے مکان پر پہنچے اور کعب کو اس کے اندرون خانہ سے بلا کر کہا کہ ہمارے صاحب یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے صدقہ مانگتے ہیں اور ہم ننگ حال ہیں۔کیا تم مہربانی کر کے ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہو۔یہ بات سن کر کعب خوشی سے کود پڑا۔کہنے لگا واللہ ابھی کیا ہے وہ دن دور نہیں جب تم اس شخص سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دو گے۔اس پہ محمد نے جواب دیا خیر ہم تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اختیار کر چکے ہیں اور اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس سلسلہ کا انجام کیا ہوتا ہے مگر تم یہ بتاؤ کہ قرض دو گے یا نہیں۔کعب نے کہا کہ ہاں مگر کوئی چیز رہن رکھو۔محمد نے پوچھا کیا چیز ؟ اس بدبخت نے جواب دیا کہ اپنی عور تیں رہن رکھ دو۔محمد نے غصہ کو دبا کر کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے جیسے آدمی کے پاس ہم اپنی عور تیں رہن رکھ دیں تمہارا تو اعتبار کوئی نہیں۔اس نے کہا اچھا تو پھر بیٹے سہی۔محمد نے جواب دیا یہ بھی نا ممکن ہے کہ ہم اپنے بیٹے تمہارے پاس رکھوا دیں۔ہم سارے عرب کا طعن اپنے سر پر نہیں لے سکتے۔البتہ اگر تم مہربانی کرو تو ہم اپنے ہتھیار رہن رکھ دیتے ہیں۔کعب راضی ہو گیا اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی رات کو آنے کا وعدہ دے کر واپس چلے آئے۔جب رات ہوئی تو یہ پارٹی ہتھیار وغیرہ ساتھ لے کر کیونکہ اب وہ کھلے طور پر ہتھیار ساتھ لے جاسکتے تھے کعب کے مکان پر پہنچے اور اس کو گھر سے نکال کر باتیں کرتے کرتے ایک طرف لے آئے اور پھر تھوڑی دیر بعد چلتے چلتے اس کو قابو کر کے وہ صحابہ جو پہلے ہتھیار بند تھے انہوں نے تلوار چلائی اور اسے قتل کر دیا۔بہر حال کعب قتل ہو کر گرا اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی وہاں سے رخصت ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور آپ کو اس قتل کی اطلاع دی۔جب کعب کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں ایک سنسنی پھیل گئی اور یہودی لوگ سخت جوش میں آگئے اور دوسرے دن صبح کے وقت یہودیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سر دار کعب بن اشرف اس طرح قتل کر دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا کہ کیا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کعب کس کس جرم کا مرتکب ہوا ہے۔اور پھر آپ نے اجمالاً ان کو کعب کی عہد شکنی، تحریک جنگ اور فتنہ انگیزی اور مخش گوئی اور سازش قتل و غیرہ کی کارروائیاں یاد دلائیں جس پر یہ لوگ ڈر کر خاموش ہو گئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں چاہتے کہ کم از کم آئندہ کے لئے ہی امن اور تعاون کے ساتھ رہو اور عداوت اور فتنہ وفساد کے بیج نہ بووؤ۔چنانچہ یہود کی رضا مندی کے ساتھ آئندہ کے لئے ایک نیا معاہدہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہنے اور فتنہ وفساد کے طریقوں سے بچنے کا از سر نو وعدہ کیا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 466 تا 470) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باتیں سن کر یہ نہیں فرمایا کہ مسلمانوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اس کے جرم گنوائے اور اس کا جو ظاہری نتیجہ نکلنا چاہئے تھا وہ بتایا کہ ان حرکتوں کے بعد اُسے قتل تو ہونا تھا اور یہود کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ آپ صحیح فرما رہے ہیں تبھی تو نیا معاہدہ کیا تا کہ اس قسم کے واقعات آئندہ نہ ہوں اور پھر پرامن فضا آئندہ کے لئے قائم ہو جائے۔یہ نہ ہو کہ اب یہودی بدلے لینے شروع کریں پھر مسلمان انہیں سزا