خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 26

خطبات مسرور جلد 16 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 (ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 306) گیا۔آخر اس کے مریدوں نے بڑی دعا کی کہ کیا وجہ تھی کیوں کہتا تھا ؟ ابھی نہیں۔ابھی نہیں۔ایک دن خواب میں مرید نے دیکھا وہی بزرگ نظر آئے۔ان سے پوچھا کہ آپ وفات کے وقت ابھی نہیں۔ابھی نہیں کرتے رہے۔تو انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ جب میرا آخری وقت تھا تو شیطان میرے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ تم میرے ہاتھ سے نکل گئے ، بچ گئے۔تم بڑے نیک کام کرتے رہے۔اور میں یہی کہتا رہا کہ ابھی نہیں۔جب تک جسم میں سانس ہے کوئی پتا نہیں میں کیا حرکت کر دوں۔تو میں مرتے وقت بھی شیطان کو بھی نہیں کہہ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسی حالت میں جان نکالی اور میں اب جنت میں ہوں۔تو یہ طریق ہے ان کا جن کو انجام کی فکر ہوتی ہے۔بہر حال انہوں نے مجھے یہ مثال دی۔بڑی فکر تھی۔وقف کی روح کو سمجھتے تھے اور سمجھتے ہوئے کام کرنے والے بزرگ تھے۔یہاں کے وقت کے مطابق پرسوں رات کو تقریباً دس بجے ان کی وفات ہوئی۔85 سال ان کی عمر تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑپوتے اور حضرت مرزا سلطان احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے ان کے یہ پوتے تھے اور حضرت مرزا عزیز احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے تھے۔حضرت مرزا عزیز احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ پوتے ہیں جنہوں نے اپنے والد سے پہلے آپ کی بیعت کی تھی۔12 ستمبر 1932ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے اور 21 / اپریل 1945ء کو انہوں نے ساڑھے بارہ سال کی عمر میں وقف زندگی کا فارم پر کیا جبکہ آپ نویں کلاس میں پڑھتے تھے۔پھر میٹرک قادیان کے ہائی سکول سے کیا۔پھر ٹی آئی کالج سے تعلیم حاصل کی اور پھر اس کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگلش کیا۔10 ستمبر 1956 ء کو بطور واقف زندگی آپ نے ٹی آئی کا لج ربوہ کو جوائن (join) کیا اور 17 سال وہاں شعبہ انگریزی میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔بڑے محنت سے لیکچر تیار کرتے تھے۔میں بھی ان سے پڑھا ہو اہوں۔اور بہت سارے شاگردوں نے مجھے لکھا کہ بڑی محنت کر کے آتے تھے اور بڑی محنت سے پڑھاتے تھے۔اپنے مضمون پر انہیں مکمل دسترس حاصل تھی۔اس لئے طلباء میں مقبول بھی تھے۔سٹوڈنٹ ان کو پسند کرتے تھے۔1964ء میں انگلش فنیٹک (Phonetic) کورس کے لئے برٹش کونسل کی سکالر شپ پر ایک سال کے لئے انگلستان آئے۔یہاں لیڈز یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ان کی جو بعض جماعتی خدمات ہیں وہ پیش کرتا ہوں۔1974ء کے ہنگامی حالات میں مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" کے ساتھ معاونت کی یعنی ان کی خدمت کے لئے ہمہ وقت وہیں رہتے تھے۔دو تین مہینے ان حالات میں قصر خلافت میں ہی رہے۔اسی طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی منظوری سے ربوہ میں اور نادار بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کے لئے 1962ء کے وسط میں ایک دارالا قامۃ النصرت کا قیام عمل میں لایا گیا۔بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے اس کا نام " مد امداد طلباء" رکھا۔اس شعبہ کے 1978ء سے جولائی 1983 ء تک آپ نگران رہے۔اس کے بعد یہ کام نظارت تعلیم کے سپر د ہو گیا تھا۔30 / اپریل 1973ء کو آپ ناظر خدمت درویشاں مقرر ہوئے اور یکم مئی 1976ء سے 1988ء تک