خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 340

خطبات مسرور جلد 16 340 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 گئی اور کعب کو یہ یقین ہو گیا کہ واقعی بدر کی فتح نے اسلام کو وہ استحکام دے دیا ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہ تھا تو وہ غیظ و غضب سے بھر گیا اور فور سفر کی تیاری کر کے اس نے مکہ کی راہ لی۔وہاں جا کر اپنی چرب زبانی اور شعر گوئی کے زور سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو شعلہ بار کر دیا۔ان کے دل میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دی۔ان کے سینے جذبات انتقام و عداوت سے بھر دیئے۔اور جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک انتہائی درجہ کی بجلی پیدا ہو گئی تو اس نے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جا کر اور کعبہ کے پر دے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر ان سے قسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانی اسلام کو صفحہ دنیا سے ملیا میٹ نہ کر دیں گے اس وقت تک چین نہ لیں گے۔مکہ کے کافروں سے اس نے یہ عہد لیا۔مکہ میں یہ آتش فشاں فضا پیدا کر کے اس بد بخت نے دوسرے قبائل عرب کا رخ کیا اور قوم بہ قوم پھر کر مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا یا۔پھر مدینہ میں واپس آکر مسلمان خواتین پر تشبیب کہی۔یعنی اپنے جوش دلانے والے اشعار میں نہایت گندے اور فحش طریق پر مسلمان خواتین کا ذکر کیا حتی کہ خاندان نبوت کی مستورات کو بھی اپنے اوباشانہ اشعار کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا اور ملک میں ان اشعار کا چرچا کر وایا۔بالآخر اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی اور آپ کو کسی دعوت وغیرہ کے بہانے سے اپنے مکان پر بلا کر چند نوجوان یہودیوں سے آپ کو قتل کر وانے کا منصو بہ باندھا۔مگر خدا کے فضل سے اس کی وقت پر اطلاع ہو گئی اور اس کی یہ سازش کامیاب نہیں ہوئی۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور کعب کے خلاف عہد شکنی، بغاوت، تحریک جنگ، فتنہ پردازی، فحش گوئی اور سازش قتل کے الزامات پایہ ثبوت کو پہنچ گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس بین الا قوامی معاہدے کی رو سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد اہالیان مدینہ سے ہوا تھا آپ مدینہ کی جمہوری سلطنت کے صدر اور حاکم اعلیٰ تھے۔آپ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ کعب بن اشرف اپنی کارروائیوں کی وجہ سے واجب القتل ہے اور اپنے بعض صحابیوں کو ارشاد فرمایا کہ اسے قتل کر دیا جاوے۔لیکن چونکہ اس وقت کعب کی فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مدینہ کی فضا ایسی ہو رہی تھی کہ اگر اس کے خلاف باضابطہ طور پر اعلان کر کے اسے قتل کیا جاتا تو مدینہ میں ایک خطر ناک خانہ جنگی شروع ہو جانے کا احتمال تھا جس میں نامعلوم کتنا کشت و خون ہونا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر ممکن اور جائز قربانی کر کے بین الا قوامی کشت و خون کو روکنا چاہتے تھے۔جنگ نہیں چاہتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی کہ کعب کو بر ملا طور پر پورا سامنے لا کر قتل نہ کیا جاوے بلکہ چند لوگ خاموشی کے ساتھ کوئی مناسب موقع نکال کر اسے قتل کر دیں اور یہ ڈیوٹی آپ نے قبیلہ اوس کے ایک مخلص صحابی محمد بن مسلمہ کے سپر د فرمائی اور انہیں تاکید فرمائی کہ جو طریق بھی اختیار کریں قبیلہ اوس کے رئیس سعد بن معاذ کے مشورہ سے کریں۔محمد بن مسلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ خاموشی کے ساتھ قتل کرنے کے لئے تو کوئی بات کہنی ہو گی یعنی کوئی عذر وغیرہ بنانا پڑے گا جس کی مدد سے کعب کو اس کے گھر سے نکال کر کسی محفوظ جگہ میں قتل کیا جا سکے۔آپ نے ان عظیم الشان اثرات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو اس موقع پر ایک خاموش سزا کے طریق کو چھوڑنے سے پیدا ہو سکتے تھے فرمایا کہ اچھا۔چنانچہ محمد بن مسلمہ نے سعد بن معاذ کے مشورہ سے ابو نائلہ اور دو تین