خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 339
خطبات مسرور جلد 16 339 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 لگ گئے۔کعب ایک وجیہ اور شکیل شخص ہونے کے علاوہ ایک قادر الکلام شاعر اور نہایت دولتمند آدمی تھا۔ہمیشہ اپنی قوم کے علماء اور دوسرے ذی اثر لوگوں کو اپنی مالی فیاضی سے اپنے ہاتھ کے نیچے رکھتا تھا۔مگر اخلاقی نقطہ نظر سے وہ ایک نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھا اور خفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں اسے کمال حاصل تھا۔فتنہ وفساد پیدا کرنے کے لئے اسے بڑا کمال حاصل تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لائے تو کعب بن اشرف نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدے میں شرکت اختیار کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن و امان اور مشتر کہ دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا۔ظاہراً تو یہ معاہدہ کیا مگر اندر ہی اندر کعب کے دل میں بغض و عداوت کی آگ سلگنے لگ گئی اور اس نے خفیہ چالوں اور مخفی ساز باز سے اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ لکھا ہے کہ کعب ہر سال یہودی علماء و مشائخ کو بہت سی خیرات کر دیا کرتا تھا۔لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد یہ لوگ اپنے سالانہ وظائف لینے کے لئے اس کے پاس گئے تو اس نے باتوں باتوں میں ان کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شروع کر دیا اور ان سے آپ کے متعلق مذہبی کتب کی بناء پر رائے دریافت کی۔تو انہوں نے کہا کہ بظاہر تو یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا تھا۔کعب اس جواب پر بہت بگڑا اور ان سب کو بڑا سخت سست کہا اور رخصت کر دیا اور جو خیرات انہیں دیا کرتا تھا وہ نہ دی۔یہودی علماء کی جب روزی بند ہو گئی تو کچھ عرصہ کے بعد پھر کعب کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں علامات کے سمجھنے میں غلطی لگ گئی تھی۔ہم نے دوبارہ غور کیا ہے۔دراصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ نبی نہیں ہیں جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔اس جواب سے پھر کعب کا مطلب حل ہو گیا اور اس نے خوش ہو کر ان کو سالانہ خیرات دے دی۔اب یہ لکھتے ہیں کہ خیر یہ تو ایک مذہبی مخالفت تھی جو گونا گوار صورت میں اختیار کی گئی لیکن قابل اعتراض نہیں ہو سکتی تھی۔لوگ مذہبی مخالفت کرتے ہیں یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے اور نہ اس بناء پر کعب کو زیر الزام سمجھا جا سکتا تھا۔یہ اس کے قتل کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ تو کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اس کو قتل کیا جائے لیکن وجہ کیا بنی۔اس کے بعد کعب کی مخالفت زیادہ خطرناک صورت اختیار کر گئی اور بالآخر جنگ بدر کے بعد تو اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو سخت مفسدانہ اور فتنہ انگیز تھا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک حالات پیدا ہو گئے۔دراصل بدر سے پہلے کعب یہ سمجھتا تھا کہ مسلمانوں کا یہ جوش ایمان ایک عارضی چیز ہے اور آہستہ آہستہ یہ سب لوگ خود بخود منتشر ہو کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ آئیں گے لیکن جب بدر کے موقع پر مسلمانوں کو غیر متوقع فتح نصیب ہوئی اور رؤوسائے قریش اکثر مارے گئے تو اس نے سمجھ لیا کہ اب یہ نیادین یو نہی مٹتا نظر نہیں آتا۔چنانچہ بدر کے بعد اس نے اپنی پوری کوشش اسلام کے مٹانے اور تباہ و برباد کرنے میں صرف کر دینے کا تہیہ کر لیا۔اس کے دلی بغض و حسد کا سب سے پہلا اظہار اس موقع پر ہوا جب بدر کی فتح کی خبر مدینہ پہنچی تو اس خبر کو سن کر کعب نے علی رؤوس الا شہاد یہ کہہ دیا کہ خبر بالکل جھوٹی معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے ایسے بڑے لشکر پر فتح حاصل ہو اور مکہ کے اتنے نامور رئیس خاک میں مل جائیں۔اور اگر یہ خبر سچ ہے تو پھر اس زندگی سے مرنا بہتر ہے۔یہ کعب نے کہا۔جب اس خبر کی تصدیق ہو