خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 338
خطبات مسرور جلد 16 338 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حارثہ تو فردوس اعلیٰ میں ہے تو اس پر آپ کی والدہ اس حال میں واپس چلی گئیں کہ وہ مسکرارہی تھیں اور یہ کہہ رہی تھیں کہ واہ واہ اے حارثہ۔(اسد الغابه جلد 1 صفحہ 650-651 حارثه بن سراقة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت) غزوہ بدر کے موقع پر خدا تعالیٰ نے کفار کے سرداروں کو موت کے گھاٹ اتار کر کفار کو رسوا کیا اور غزوہ بدر میں شامل ہونے والے مسلمانوں کو عزت بخشی اور خدا تعالیٰ نے اہل بدر کے متعلق خبر پائی تو فرمایا کہ تم جو مرضی کرو تم پر جنت واجب ہو گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو کہا کہ تم جو مرضی کرو جنت واجب ہو گئی ہے۔یہ مطلب نہیں تھا کہ جو مرضی کرو۔اب گناہ بھی کرو تو جنت واجب ہے۔مطلب یہ کہ اب ان سے ایسی کوئی باتیں نہیں ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف ہوں۔اللہ تعالیٰ خود ان کی رہنمائی فرماتا رہے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایا جو کہ غزوہ بدر کے دن شہید ہو گئے تھے کہ وہ جنت الفردوس میں ہیں۔(شرح زرقانی جلد دوم صفحہ 257 باب غزوہ بدر الكبرى دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) پھر ایک صحابی حضرت عباد بن بشر ہیں۔جنگ یمامہ گیارہ بجری میں ان کی وفات ہوئی تھی۔حضرت عباد بن بشر کی کنیت ابو بشر اور ابور بیج ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عبد الاستھل سے تھا۔ان کی اولاد میں صرف ایک بیٹی تھی وہ بھی فوت ہو گئی۔انہوں نے مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اُسید بن خضیر سے پہلے اسلام قبول کیا۔مواخات مدینہ کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حضرت ابو حذیفہ بن عبہ کا بھائی بنایا۔حضرت عباد بن بشر غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل ہوئے۔آپ ان اصحاب میں شامل تھے جن کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 336 عباد بن بشر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف تواریخ سے لے کے سیرة خاتم النبیین میں بھی لکھا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ بدر کی جنگ نے جس طرح مدینہ کے یہودیوں کی دلی عداوت کو ظاہر کر دیا تھا۔بدر کی جنگ میں مدینہ کے یہودیوں کا خیال تھا کہ کفار جو ہیں یہ اب مسلمانوں کو ختم کر دیں گے۔لیکن جنگ کا پانسا مسلمانوں کے حق میں پلٹا گیا۔مسلمانوں کو فتح ہوئی اور اس وجہ سے یہودیوں کی عداوت بھی ظاہر ہوئی۔مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ بنو قینقاع کی جلا وطنی بھی دوسرے یہودیوں کو اصلاح کی طرف مائل نہ کر سکی اور وہ اپنی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں میں ترقی کرتے گئے۔چنانچہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔کعب گو مذہبا یہودی تھا لیکن دراصل یہودی النسل نہ تھا بلکہ عرب تھا۔اس کا باپ اشرف بنو بھان کا ایک ہوشیار اور چلتا پرزہ آدمی تھا جس نے مدینہ میں آکر بنو نضیر کے ساتھ تعلقات پیدا کئے۔ان کا حلیف بن گیا اور بالاآخر اس نے اتنا اقتدار اور رسوخ پیدا کر لیا کہ قبیلہ بنو نضیر کے رئیس اعظم ابو رافع بن ابوالحقیق نے اپنی لڑکی اسے رشتہ میں دے دی۔اسی لڑکی کے بطن سے کعب پیدا ہوا جس نے بڑے ہو کر اپنے باپ سے بھی بڑھ کر رتبہ حاصل کیا حتی کہ بالاآخر اسے یہ حیثیت حاصل ہو گئی کہ تمام عرب کے یہودی اسے گویا اپنا سر دار سمجھنے