خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 337

خطبات مسرور جلد 16 اس پر 337 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 ایک نذر مانی تھی کہ جب وہ کام آجائے تو اس کے بعد ہم ذبح کر دیں گے۔اس کے مطابق انہوں نے عمل کیا۔ایک صحابی کا ذکر ملتا ہے ان کا نام حضرت حارثہ بن سراقہ تھا۔ان کی وفات 2 ہجری میں جنگ بدر کے موقع پر ہوئی تھی۔ان کی والدہ ریغ بنت نظر حضرت انس بن مالک کی پھوپھی تھیں۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 1 صفحہ 704 حارثه بن سراقة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) ہجرت سے پہلے والدہ کے ساتھ یہ مشرف بہ اسلام ہوئے جبکہ آپ کے والد وفات پاچکے تھے۔(سیر الصحابه جلد 3 صفحه 299 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اور حضرت سائب بن عثمان بن مظعون کے در میان عقد مؤاخات کیا تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 307 سائب بن عثمان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) مواخات کا معاہدہ کر وایا تھا، بھائی بھائی کا عقد کروایا تھا۔ابو نعیم نے بیان کیا کہ حضرت حارثہ بن سراقہ اپنی والدہ سے بہت حسن سلوک سے کام لینے والے تھے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں حارثہ کو دیکھا۔حبان بن عرقہ نے بدر کے دن آپ کو شہید کیا۔اس نے انہیں اس وقت تیر مارا جبکہ آپ حوض سے پانی پی رہے تھے۔وہ تیر آپ کی گردن پر لگا جس سے آپ شہید ہو گئے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل رہے تھے کہ ایک انصاری جوان آپ کے سامنے آیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے حارثہ ! تم نے کس حال میں صبح کی۔انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں یقینا اللہ پر حقیقی ایمان رکھتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو کیا کہہ رہے ہو کیونکہ ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔اس نوجوان نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میر ادل دنیا سے بے رغبت ہو گیا ہے۔میں رات بھر جاگتا ہوں اور دن بھر پیا سارہتا ہوں۔یعنی عبادت کرتا ہوں اور روزے رکھتا ہوں اور میں گویا اپنے پروردگار عزوجل کا عرش ظاہری آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اور میں گویا اہل جنت کو دیکھ رہاہوں کہ وہ گویا با ہم ایک دوسرے سے مل رہے ہیں اور گویا اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس میں شور مچارہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی پر قائم رہو۔تم ایک ایسے بندے ہو جس کے دل میں اللہ نے ایمان کو روشن کر دیا ہے۔پھر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے شہادت کی دعا فرمائیے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی اور بدر کے روز جب گھڑ سواروں کو بلایا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے نکلے اور سب سے پہلے سوار تھے جو شہید ہوئے۔بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پہلے انصاری تھے جو غزوہ بدر میں شہید ہوئے۔حضرت حارثہ کی شہادت کی خبر جب ان کی والدہ کو ملی تو ان کی والدہ حضرت ربیع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کو تو معلوم ہے کہ مجھے حارثہ سے کتنا پیار تھا۔بہت خدمت کیا کرتے تھے۔اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو میں صبر کر لوں گی اور اگر ایسا نہیں تو پھر خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ میں کیا کروں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ جنت ایک نہیں بلکہ کئی جنتیں ہیں اور حارثہ تو فردوس اعلیٰ میں ہے۔جو اعلی ترین جنت ہے اس میں ہے۔اس پر انہوں نے عرض کیا کہ میں ضرور صبر کروں گی۔ایک دوسری روایت کے مطابق جب