خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 336
خطبات مسرور جلد 16 336 29 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2018ء بمطابق 20 وفا1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام حضرت علاد بن رافع زرقی تھا آپ انصاری تھے۔یہ ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھے جو غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے اولاد بھی کثیر عطا فرمائی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 447 خلاد بن رافع مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ایک روایت میں آتا ہے کہ مُعاذ بن رفاعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں میں اپنے بھائی حضرت خلاد بن رافع کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بہت لاغر کمزور اونٹ پر سوار ہو کر بدر کی طرف نکالا یہاں تک کہ ہم برید مقام پر پہنچے جو روحاء کے مقام سے پیچھے ہے تو ہمارا اونٹ بیٹھ گیا۔تو میں نے دعا کی کہ اے اللہ ہم تجھ سے نذر مانگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس پر مدینہ لوٹا دے تو ہم اس کو قربان کر دیں گے۔پس ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ تم دونوں کو کیا ہوا ہے۔ہم نے آپ کو ساری بات بتائی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس رکے اور آپ نے وضو فرمایا۔پھر جو بچا ہوا پانی تھا اس میں لعاب دہن ڈالا۔پھر آپ کے حکم سے ہم نے اونٹ کا منہ کھول دیا۔آپ نے اونٹ کے منہ میں کچھ پانی ڈالا۔پھر کچھ اس کے سر پر، اس کی گردن پر، اس کے شانے پر ، اس کی کوہان پر ، اس کی پیٹھ پر اور اس کی دم پر پانی ڈالا )۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! رافع اور علاد کو اس پر سوار کر کے لے جا۔کہتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ہم بھی چلنے کے لئے کھڑے ہوئے اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منصف مقام کے شروع میں پالیا اور ہمارا اونٹ قافلے میں سب سے آگے تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں دیکھا تو مسکرا دیئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے اس کی وہ کمزوری بالکل دور ہو گئی تھی۔کہتے ہیں ہم چلتے رہے یہاں تک کہ بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔بدر سے واپسی پر جب ہم مصلی مقام پر پہنچے تو وہ اونٹ پھر بیٹھ گیا۔پھر میرے بھائی نے اس کو ذبح کر دیا اور اس کا گوشت تقسیم کیا اور ہم نے اس کو صدقہ کر دیا۔(کتاب المغازى للواقدى باب بدر القتال جلد اوّل صفحہ 25 عالم الكتب 1984ء)، (اسد الغابه جلد 2 صفحہ 181 خلاد بن رافع مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت)