خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 334

خطبات مسرور جلد 16 334 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 آگے سے resist کیا تو انہوں نے فائرنگ کی اور ان کو شہید کر دیا۔مکرم مبین احمد صاحب ابن مکرم محبوب احمد صاحب کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے پڑدادا مکرم چوہدری اللہ داد صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے 1940ء میں اپنے بڑے بھائی عبد العزیز پٹواری صاحب کے ذریعہ بیعت کی۔بیعت کے بعد ان کے بیٹوں نے ان کی مخالفت شروع کر دی اور گھر میں ان کے لئے ایک الگ جگہ مقرر کر دی اور ان کے بستر اور بر تن الگ کر دیئے۔لیکن انہوں نے بڑے صبر سے حالات کا مقابلہ کیا۔شہید مرحوم کے دادا مکرم علی محمد صاحب جماعت کے سخت مخالف تھے اور مخالف احمدیت عطاء اللہ شاہ بخاری کے مرید تھے جو سخت مخالف تھا اور جب عطاء اللہ شاہ بخاری نے پارٹیشن کے وقت قائد اعظم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے ، کافر اعظم کہا اور اسی طرح مسلم لیگ کے خلاف بولے۔تب ان کے دادا ان سے الگ ہو گئے اور پھر جب بر صغیر کی تقسیم ہوئی ہے۔پاکستان، ہندوستان بنا ہے اور جماعت ہجرت کر کے لاہور آئی تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہجرت کے متعلق پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھا تو ان کا پھر جماعت کی طرف رجحان پیدا ہوا اور قیام پاکستان کے بعد یہ فیملی پھر نوابشاہ شفٹ ہو گئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سندھ کے دورے کے دوران شہید مرحوم کے دادا نے ریلوے سٹیشن پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا جب دیدار کیا اور حضور کا چہرہ دیکھا تو پھر کہنے لگے یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا اور بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔مبین احمد صاحب بی اے کے طالبعلم تھے۔شہادت کے وقت مرحوم کی عمر بیس سال تھی۔مبین احمد صاحب اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔بردبار طبع، سنجیدہ طبع، متین صورت نوجوان تھے۔مبین احمد صاحب پنجوقتہ نماز کے عادی تھے۔گھر میں سب سے پیار سے پیش آتے۔شہید مرحوم جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ایک فقال خادم تھے۔جماعتی کاموں کے لئے اپنا ضروری کام چھوڑنا پڑتا تو پرواہ نہ کرتے تھے۔شہید مرحوم نے وصیت کی ہوئی تھی اور مسل نمبر آچکا تھا۔امید ہے انشاء اللہ اب ان کی وصیت بھی منظور ہو جائے گی۔اہل محلہ سے بھی بڑے دوستانہ تعلقات تھے۔اور ہر آنے والے چھوٹے بڑے نے ان کی تعریف کی ہے۔مبین احمد صاحب اسی واقعہ میں شہید ہونے والے دوسرے خادم محمد ظفر اللہ صاحب کے پھوپھی زاد تھے۔ان کے پسماندگان میں والد مکرم محبوب احمد صاحب، والدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے علاوہ بہنیں مبینہ محبوب عمر 23 سال، کنزہ محبوب عمر 16 سال اور بھائی امین احمد عمر 13 سال ہیں جو سوگوار چھوڑے ہیں۔دوسرے شہید جن کا جنازہ ہو گا محمد ظفر اللہ صاحب ابن لیاقت علی صاحب ہیں۔ان کو اس واقعہ کے دوران تین گولیاں لگی تھیں جس سے ان کے دونوں گردے شدید زخمی ہو گئے۔ان کا آپریشن کیا گیا۔وہ آپریشن ٹھیک ہو گیا لیکن پھر طبیعت خراب ہو گئی۔پھر دوبارہ آپریشن کے لئے ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا لیکن ایک رات پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا۔وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَیهِ رجِعُونَ۔ان کے خاندان میں بھی احمدیت کا نفوذان کے پڑدادا