خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 333
خطبات مسرور جلد 16 333 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 کا یہ حال تھا کہ ان کی ہمشیرہ لکھتی ہیں کہ میری والدہ کی اتنی فرمانبرداری تھی کہ اگر کوئی بات وہ بار بار کہتیں تو ہر دفعہ ان کی بات کو اس طرح سنتے جس طرح وہ پہلی دفعہ سن رہے ہیں۔کبھی یہ نہیں کہا کہ آپ پہلے مجھے یہ کہہ چکی ہیں۔ان کی بہو جو مربی سلسلہ کی بیوی ہیں وہ لکھتی ہیں کہ اٹھارہ سالوں میں اس گھر سے اور خاص کر ابا جی اور اُمّی یعنی سسر اور ساس سے سوائے عزت، محبت، پیار، مان کے اور کچھ نہیں ملا اور راجہ صاحب میری مرحومہ والدہ کو کہا کرتے تھے کہ میں آپ کی بیٹی کو میکہ بھلوا دوں گا۔تو انہوں نے کہا کہ بچیاں میکہ کس طرح بھول سکتی ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔جب سرال میں کوئی بیٹی کی طرح رکھے تو میکے بھول جایا کرتی ہیں۔بہر حال انہوں نے اپنی بہوؤں سے بھی بڑا پیار اور محبت کا سلوک رکھا۔یہی لکھتی ہیں کہ انتا جی کو میں نے عاشق خدا، عاشق رسول، عاشق مسیح موعود علیہ السلام اور عاشق خلفائے کرام اور عاشق قرآن اور خلافت سے بے انتہا محبت اور حد درجہ اطاعت کرنے والا، معاملہ فہم ، صائب الرائے اور انتہائی حلیم پایا۔لکھتی ہیں ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ ہر مہینے قرآن کریم کا دور مکمل کیا کرتے تھے۔ان کے رشتہ داروں نے بھی لکھا ہے کہ ہم نے دیکھا ہے اور یہ غیر معمولی تھا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کی ضروریات پوری کر تا تھا اور ان کی دعائیں سنتا تھا۔بہر حال ایک کامیاب مربی اور مبلغ تھے۔انتظامی صلاحیت بھی تھی۔خلافت سے ان کا تعلق جو تھا ایک مثالی تعلق تھا اور ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کا تعلق تھا کہ جس طرح نبض چلتی ہے اس طرح یہ خلافت کے ساتھ جسم کے ساتھ ، دل کے ساتھ چلا کرتے تھے اس طرح ان کا خلافت کے ساتھ تعلق تھا اور پاکستان میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے مجھے ناظر اعلیٰ بنایا ہے تو اس وقت بھی ایک نمایاں اطاعت کا پہلو میں نے ان میں دیکھا ہے صرف اس لئے کہ خلیفہ المسیح نے مقرر کیا ہے اور ان کا نمائندہ ہے اس لئے اس کی اطاعت بھی کرنی ہے۔بہر حال ایک مثالی اطاعت گزار تھے جو کم کم ہی دنیا میں نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں اور خوبیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے۔غریبوں کا خیال رکھنے والے۔جن مربیان کے ساتھ کام کیا ان مربیان کا خیال رکھنے والے۔ان کی ضروریات کی طرف توجہ دینے والے اور پورا کرنے کی کوشش کرنے والے تھے۔بہت سارے مربیان نے مجھے لکھا ہے۔اس کے علاوہ دو شہداء کا جنازہ ہو گا جو جماعت کی وجہ سے تو شہید نہیں لیکن بہر حال ان کی دکان پر ڈاکہ پڑا اور ان کو وہاں ڈاکوؤں نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ان میں ایک مبین احمد صاحب شہید ابن محبوب احمد صاحب ہیں اور دوسرے محمد ظفر اللہ صاحب ابن لیاقت علی صاحب ہیں۔17 جولائی 2018ء کو تقریباً دو پہر کے تین بجے کراچی کے علاقہ ویٹا چوک چورنگی انڈسٹریل ایریا میں ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے تین احمدی خدام مبین احمد صاحب ابن محبوب احمد صاحب اور ظفر اللہ صاحب اور محمد نصر اللہ صاحب کو زخمی کر دیا تھا جس سے مبین احمد صاحب اور ظفر اللہ صاحب کی شہادت ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کی دکان پر یہ آئے تھے۔الیکٹرانکس کی دکان تھی اور ڈکیتی کے ساتھ فائرنگ کر گئے۔کیونکہ انہوں نے