خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 332
خطبات مسرور جلد 16 332 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 دو سال ایڈیشنل ناظر اشاعت کے طور پر ان کو توفیق ملی۔اور 2012ء میں پھر یہ ریٹائر ڈ ہوئے۔ان کی اہلیہ ان کی چا زاد د تھیں جو ان کی زندگی میں وفات پاگئی تھیں۔اور ان کے تین بیٹے ہیں۔راجہ محمد احمد صاحب یہاں لندن میں رہتے ہیں۔راجہ عطاء المنان مربی سلسلہ وکالت تصنیف ربوہ میں ہیں۔اور راجہ محمد اکبر بھی یہاں انگلستان میں ہی رہتے ہیں۔بڑے متوکل اور دعا گو شخصیت تھے۔ان کے بیٹے ہی لکھتے ہیں کہ آپ بنگلہ دیش میں تھے تو وہاں ایک دفعہ آگ لگ گئی اور احمدیوں کے گھروں کے قریب تک آگ پہنچ گئی۔اس پر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ تیرے مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے تو ہمیں اس آگ سے بچالے۔کہتے ہیں کہ آگ اس گھر کی طرف آئی اور اس کے ایک کونے کو چھو کے واپس وہیں رک گئی اور آگے نہیں بڑھی اور احمدیوں کے گھر جو تھے نقصان سے بچ گئے۔یہ جب یو گنڈا میں تھے تو خانہ جنگی کی وجہ سے وہاں کے حالات خراب ہو گئے۔لیکن پھر بھی آپ تبلیغ کے لئے جاتے رہتے تھے۔تبلیغ کے لئے صبح جاتے تھے اور شام کو آتے تھے۔ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں تھی تو قریب قریب کے علاقوں میں جاسکتے تھے۔وہاں کا ایک واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ جماعت اسلامی کا ایک شخص آپ کو کسی تبلیغی جماعت کا مولوی سمجھ کر آیا۔اس نے کہا کہ اچھا میرے پاس ایک گاڑی ہے وہ آپ خرید لیں اور اس نے کہا کہ 1400 ڈالر کی گاڑی لے لیں۔آخر سودا گیارہ سو پچاس ڈالر میں طے پایا۔جماعت کے مالی حالات بھی ایسے نہیں تھے کہ گاڑی خرید سکتے۔نہ راجہ صاحب کے اپنے حالات ایسے تھے کہ گاڑی خرید سکیں۔مگر آپ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔چنانچہ وہ سودا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ پیسوں کا انتظام کر دے تاکہ میں گاڑی خرید سکوں۔اور اس لئے دعا کی کہ اپنا چولہا اور بستر رکھ کر تبلیغ کے لئے نکل جایا کروں اور تبلیغ میں سہولت رہے گی۔کہتے ہیں بڑے پریشان تھے۔سودا بھی ہو گیا تھا۔چند دن کی مہلت تھی پیسے دینے کی۔تو کہتے ہیں ایک دن میں نے پوسٹ بکس کھولا تو اس میں سے ایک خط نکلا جو اُن کے ایک نسبتی بھائی کا تھا۔کینیڈا سے آیا ہوا تھا۔اس میں لکھا ہوا تھا کہ میں نے رات خواب دیکھی کہ آپ کو ساڑھے گیارہ سو ڈالر کی ضرورت ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو کیوں ضرورت ہے۔لیکن بہر حال وہ پیسے آپ کو بھجوا رہا ہوں اور ساتھ ہی ساڑھے گیارہ سو ڈالر کا چیک بھی تھا۔اس طرح اور بھی ان کی قبولیت دعا کے بہت سارے واقعات ہیں۔قرآن کریم کی تلاوت کا ان کو بڑا شوق تھا۔یہی لکھتے ہیں کہ والد صاحب کو شوق تھا کہ فضا میں بھی اور پانی میں بھی قرآن کریم ختم کریں۔خشکی میں تو کئی دفعہ ختم کیا۔اور بحری سفر میں بھی ان کو قرآن کریم ختم کرنے کی توفیق ملی۔لیکن ہوائی جہاز کا لمبا سفر نہیں تھا تو جتنا بھی جس حد تک سفر کے دوران پڑھ سکتے تھے وہ پڑھا کرتے تھے۔ان کے واقف زندگی بیٹے راجہ عطاء المنان جو ہیں، مربی ہیں اور وکالت تصنیف میں آجکل کام کر رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ ابا جان نے ہمیشہ دو نصیحتیں کی تھیں۔ایک یہ کہ کبھی شرک نہیں کرنا۔اور دوسرا یہ کہ ہر حال میں خلافت احمدیہ کے ساتھ وابستہ رہنا۔اور خود بھی انہی باتوں کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔والدہ کی عزت واحترام