خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 331 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 331

خطبات مسرور جلد 16 331 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 حضرت ام سلمہ پڑھنا بھی جانتی تھیں اور مسلمان مستورات کی تعلیم و تربیت میں انہوں نے خاص حصہ لیا۔چنانچہ کتب حدیث میں بہت سی روایات اور احادیث ان سے مروی ہیں اور اس جہت سے ان کا درجہ ازواج النبی میں دوسرے نمبر پر اور گل صحابہ (مردوزن) میں بارہویں نمبر پر ہے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبین ملی می کنم از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 530-531) یہ صحابہ کا ذکر تھا۔اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے اعلیٰ مقام کو مزید بلندیوں پر لے جاتا چلا جائے اور ہمیں بھی ان نیکیوں کو کرنے کی توفیق دے جو یہ لوگ کرتے رہے۔اب میں کچھ وفات شدگان کا اعلان کروں گا اور نماز کے بعد ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ان میں سے پہلے راجہ نصیر احمد صاحب ناصر ہیں جو واقف زندگی تھے اور مربی سلسلہ تھے اور سابق ناظر اصلاح و ارشاد مرکز یہ بھی رہے۔6 جولائی کو صبح گیارہ بجے 80 سال کی عمر میں ان کی طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ۔کئی سالوں سے آپ بیمار تھے۔2012ء سے ان کی طبیعت آہستہ آہستہ خراب چلی آرہی تھی۔گزشتہ تین ماہ سے برین ہیمبرج کی وجہ سے بالکل ہی بستر پر تھے۔17 مئی 1938ء کو بھیرہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔میٹرک کیا۔اس کے بعد لاہور جاکر محکمہ اریلیشن (Irrigation) میں بطور کلرک نوکری شروع کر دی۔1958ء میں انہوں نے زندگی وقف کی اور جامعہ میں داخل ہوئے اور 1965ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ان کے خاندان میں احمدیت ان کے والد راجہ غلام حیدر صاحب کے ذریعہ آئی تھی جنہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور بعد میں پھر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی بھی بیعت کروائی۔مگر راجہ نصیر احمد صاحب کے والد کی خواہش تھی کہ ان کا ایک بیٹا وقف زندگی ہو۔چنانچہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے راجہ صاحب نے 1958ء میں وقف زندگی کا فارم پر کیا اور اپنے بڑے بھائی راجہ نذیر احمد صاحب ظفر ( مرحوم) کے پاس لے گئے کہ اس پر دستخط کر دیں۔ان کے بھائی نے انہیں کہا کہ سوچ لیں کہ یہ وقف زندگی بڑا مشکل کام ہے اور بڑا محنت کا کام ہے اور بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔لیکن آپ نے اپنے بھائی کو کہا کہ میں نے بہت سوچ لیا ہے آپ دستخط کر دیں۔والد تو ان کے فوت ہو چکے تھے۔اس کے بعد بہر حال آپ نے وقف کیا۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ جامعہ میں داخل ہوئے اور پھر وہاں سے فارغ التحصیل ہو کر میدان عمل میں آئے۔جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد 47 سال جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔پاکستان میں مختلف جگہوں پر مربی کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور جب بنگلہ دیش اور پاکستان ایک ہوتے تھے تو مشرقی پاکستان میں یا بنگلہ دیش میں بھی اور مشرقی پاکستان میں بھی ان کو بطور مربی خدمت کی توفیق ملی۔یوگنڈا میں بھی مبلغ کے طور پر رہے۔زائرے میں رہے۔انڈونیشیا میں رہے۔دو سال جامعہ احمدیہ میں بطور استاد بھی خدمت کی توفیق پائی۔پھر صدر انجمن احمد یہ میں نائب ناظر بھی رہے۔اس کے بعد دس سال ناظر اصلاح و ارشاد مرکز یہ خدمت کی توفیق پائی۔دوسال ایڈ یشنل ناظر رشتہ ناطہ۔پھر