خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 25
خطبات مسرور جلد 16 25 3 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018ء بمطابق 19 / صلح 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دیرینہ خادم سلسله محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب: دو دن پہلے ایک دیرینہ خادم سلسله محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا الَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے روحانی اور جسمانی دونوں رشتوں کا اعزاز بخشا۔یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو اس دنیا میں آیا اس نے ایک دن اس دنیا سے رخصت بھی ہونا ہے۔ہر چیز کو فنا ہے اور ہمیشہ رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔لیکن خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس دنیاوی زندگی کو با مقصد بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ کسی نیک آدمی یاولی یا نبی کے ساتھ صرف جسمانی رشتہ ہونا ہی ان کی زندگی کو با مقصد نہیں بنا سکتا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بنا سکتا ہے بلکہ انسان کا خود اپنا فعل اور عمل ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بناتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے تھے کہ فاطمہ صرف میری بیٹی ہونے کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں کر سکتی۔اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی کو اس کے حکموں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش (ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 343) کرو اور جب یہ کر لو تو تب بھی اللہ تعالیٰ کا خوف رہنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ میری ان کوششوں کو قبول بھی فرمائے اور اپنے فضل سے انجام بخیر کرے۔میں خود بھی اس بات کو جانتا ہوں اور بڑا گہر ا ذاتی تعلق بھی مرزا خورشید احمد صاحب سے تھا۔ان کو اچھی طرح دیکھنے کا موقع ملا اور اسی طرح لوگوں نے بھی مجھے لکھا۔بہت سے خطوط آئے ہیں کہ انہوں نے عاجزی سے اپنے وقف کو نبھانے اور اپنے کام سر انجام دینے کی کوشش کی۔کبھی خاندانی تفاخر کا اظہار نہیں کیا۔گزشتہ سال جلسہ پر یہاں آئے ہوئے تھے تو انجام بخیر ہونے کی فکر کا اظہار مجھ سے بھی کیا اور اس می کی مثال دی جو کہ بڑا بزرگ آدمی تھا اور فوت ہوتے ہوئے یہی کہتا رہا کہ ابھی نہیں، ابھی نہیں اور اسی طرح فوت ہو شخص