خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 330

خطبات مسرور جلد 16 330 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 حضرت اُم سلمہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ حضرت اُم سلمہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے جو مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ عزیز ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس شخص کو جو بھی مصیبت پہنچے اس پر وہ ااِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ کہہ کر یہ کہے کہ اے اللہ ! میں اپنی اس مصیبت کا آپ کے ہاں سے ثواب طلب کرتا ہوں۔اے اللہ ! مجھے اس کا بدل عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کر دیتا ہے۔حضرت اُم سلمہ بیان کرتی ہیں کہ جب ابو سلمہ شہید ہوئے تو میں نے یہ دعا مانگی جبکہ میرا دل پسند نہیں کر رہا تھا کہ میں دعا مانگوں کہ اے اللہ ! مجھے ان یعنی حضرت ابو سلمہ کا بدل عطا فرما۔پھر میں نے کہا ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ کیا وہ ایسے نہ تھے ؟ کیا وہ ویسے نہ تھے ؟ یعنی ایسی ایسی خوبیوں اور صفات حسنہ کے مالک تھے۔پھر بھی میں یہ دعا پڑھتی رہی۔جب حضرت اُم سلمہ کی عدت پوری ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیغام نکاح آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کر لی۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 4 صفحہ 132 مكتبه دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2005ء) شادی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھا کہ اسی سال (4 ہجری ) ماہ شوال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم سلمہ سے شادی فرمائی۔اُم سلمہ قریش کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور اس سے پہلے ابو سلمہ بن عبد الاسد کے عقد میں تھیں جو ایک نہایت مخلص اور پرانے صحابی تھے اور اسی سال فوت ہوئے تھے۔جب اُتم سلمہ کی عدت (یعنی وہ میعاد جو اسلامی شریعت کی روسے ایک بیوہ یا مطلقہ عورت پر گزرنی ضروری ہوتی ہے اور اس سے پہلے وہ نکاح نہیں کر سکتی وہ ) گزرگئی تو چونکہ ام سلمہ ایک نہایت سمجھدار اور باسلیقہ اور قابل خاتون تھیں اس لئے حضرت ابو بکر کو ان کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔مگر اُم سلمہ نے انکار کیا۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اپنے لئے ان کا خیال آیا جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اُم سلمہ کی ذاتی خوبیوں کے علاوہ جن کی وجہ سے وہ ایک شارع نبی کی بیوی بننے کی اہل تھیں وہ ایک بہت بڑے پائے کے قدیم صحابی کی بیوہ تھیں اور پھر صاحب اولاد بھی تھیں جس کی وجہ سے ان کا کوئی خاص انتظام ہوناضروری تھا۔علاوہ ازیں چونکہ ابو سلمہ بن عبد الاسد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پسماندگان کا خاص خیال تھا۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم سلمہ کو اپنی طرف سے شادی کا پیغام بھیجا۔پہلے تو ام سلمہ نے اپنی بعض معذوریوں کی وجہ سے کچھ تامل کیا اور یہ عذر بھی پیش کیا کہ میری عمر اب بہت زیادہ ہو گئی ہے اور میں اولاد کے قابل نہیں رہی۔لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غرض اور تھی اس لئے بالآخر وہ رضا مند ہو گئیں اور ان کی طرف سے ان کے لڑکے نے ماں کا ولی ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی شادی کر دی۔جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے ام سلمہ ایک خاص پائے کی خاتون تھیں اور نہایت فہیم اور ذکی ہونے کے علاوہ اخلاص و ایمان میں بھی ایک اعلیٰ مرتبہ رکھتی تھیں اور ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ابتداء حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔مدینہ کی ہجرت میں بھی وہ سب مستورات سے اول نمبر پر تھیں۔