خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 329
خطبات مسرور جلد 16 329 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 کیا کہ مسلمان قبیلہ بنو ضمرہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقت ضرورت ان کی مدد کریں گے۔یہ معاہدہ با قاعدہ لکھا گیا اور فریقین کے اس پر دستخط ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد اوّل صفحہ 133 باب ذکر بعثه رسول الله الله الله الرسل بكتبه - الخ مطبوعه دار احياء 111 التراث العربي بيروت 1996ء) پھر سیرۃ خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ "جنگ اُحد میں جو ہزیمت مسلمانوں کو پہنچی اس نے قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف سر اٹھانے پر آگے سے بھی زیادہ دیر کر دیا۔چنانچہ ابھی جنگ اُحد پر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور صحابہ ابھی اپنے زخموں کے علاج سے بھی پوری طرح فارغ نہیں ہوئے تھے کہ محرم 4 ہجری میں اچانک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ اطلاع پہنچی کہ قبیلہ اسد کارئیس طلیحہ بن خویلد اور اس کا بھائی سلمہ بن خُویلد اپنے علاقہ کے لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر رہے ہیں۔اس خبر کے ملتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اپنے ملک کے حالات کے ماتحت اس قسم کی خبروں کے خطرات کو خوب سمجھتے تھے فور اڈیڑھ سو صحابیوں کا ایک تیز رو دستہ تیار کر کے اس پر ابو سلمہ بن عبد الاسد کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں تاکید کی کہ یلغار کرتے ہوئے پہنچیں اور پیشتر اس کے کہ بنو اسد اپنی عداوت کو عملی جامہ پہنا سکیں انہیں منتشر کر دیں۔چنانچہ ابو سلمہ نے تیزی مگر خاموشی کے ساتھ بڑھتے ہوئے وسط عرب کے مقام قطن میں بنو اسد "تک پہنچ گئے اور انہیں جا لیا۔لیکن کوئی لڑائی نہیں ہوئی بلکہ بنو اسد کے لوگ مسلمانوں کو دیکھتے ہی اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے۔اور ابو سلمہ چند دن کی غیر حاضری کے بعد مدینہ میں واپس پہنچ گئے۔اس سفر کی غیر معمولی مشقت سے ابو سلمہ کا وہ زخم جو انہیں اُحد میں آیا تھا اور اب بظاہر مندمل ہو چکا تھا پھر خراب ہو گیا اور باوجو د علاج معالجہ کے بگڑتا ہی گیا اور بالآخر اسی بیماری میں اس مخلص اور پرانے صحابی نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے وفات پائی۔ب الله سال (سیرت خاتم النبین صلی للی کم از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 511) انہیں انیسیرة کنوئیں کے پانی سے غسل دیا گیا جو عالیہ مقام پر بنو امیہ بن زید کی ملکیت میں تھا۔اس کنوئیں کا نام جاہلیت میں العیپیر تھا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر السیرۃ رکھ دیا تھا۔اور حضرت ابو سلمہ کو مدینہ میں دفن کیا گیا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 128 ابو سلمہ بن عبد الاسد دار احياء التراث بيروت لبنان1996ء) حضرت ابو سلمہ کی جب وفات ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی کھلی آنکھوں کو بند کیا اور ان کی وفات کے بعد یہ دعا کی کہ اے اللہ ! ابو سلمہ سے مغفرت کا سلوک فرما اور اس کے درجات ہدایت یافتہ لوگوں میں بلند کر دے اور پیچھے رہ جانے والے اس کے پسماندگان میں خود اس کا قائمقام ہو جا۔اے تمام جہانوں کے رب ! اسے بخش دے اور ہمیں بھی۔ایک روایت میں یہ ہے کہ جب حضرت ابوسلمہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یہ دعا کی کہ اے خدا میرے اہل پر میرا جانشین بہترین شخص کو بنانا۔چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُم سلمہ سے نکاح کر لیا۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابه جز ثالث صفحہ 297-296، عبدالله بن عبد الاسد دار الكتب العلميه بيروت لبنان)