خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 328
خطبات مسرور جلد 16 328 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 اپنے خاوند کے پاس چلی جاؤ۔حضرت اُم سلمہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد میرے بیٹے کو بنی عبد الاسد نے واپس کر دیا۔پھر میں نے اپنے اونٹ کو تیار کیا اور اپنے بچے کو ساتھ لے کر اس پر سوار ہوئی۔جب میں مدینہ کو روانہ ہوئی تو کوئی بھی مدد گار میرے ساتھ نہ تھا۔جب مقام تنعیم میں پہنچی تو وہاں پر مجھے حضرت عثمان بن طلحہ بن ابو طلحہ، ( یہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔انہوں نے سن 6 ہجری میں اسلام قبول کیا تھا) ملے اور مجھے کہنے لگے کہ اے ام سلمہ کدھر جا رہی ہیں ؟ میں نے کہا کہ میں اپنے خاوند کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔حضرت عثمان نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی ہے؟ میں نے کہا کہ خدا کی قسم ! کوئی بھی نہیں۔صرف میرا یہ بیٹا اور خدا میرے ساتھ ہے۔عثمان نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اس طرح تن تنہا میں تمہیں ہر گز نہیں جانے دوں گا۔میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔پھر انہوں نے میرے اونٹ کی مہار پکڑ لی۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے عرب کے آدمیوں میں سے اتنا معزز شخص کوئی نہیں دیکھا۔جب منزل پر پہنچتے تو اونٹ کو بٹھا کر الگ ہو جاتے۔(مختلف جگہوں پر پڑاؤ ڈالتے ہوئے جاتے تھے۔جب ایک منزل پر پہنچتے تو اونٹ کو بٹھاتے اور الگ ہو جاتے۔) میں جس وقت اونٹ سے اترتی تو وہ اونٹ پر سے اس کا کجاوہ اتار کر اسے درخت سے باندھ دیتے اور علیحدہ درخت کے سائے میں جا کر سو جاتے۔جب چلنے کا وقت ہوتا تو وہ اونٹ کو تیار کر دیتے اور پھر میں اس پر سوار ہو جاتی اور وہ نکیل پکڑ کر چل پڑتے یہاں تک کہ ہم اسی طرح مدینہ پہنچ گئے۔حضرت عثمان بن ابو طلحہ نے جب قبا میں بنو عمرو بن عوف کے گاؤں کو دیکھا تو مجھ سے کہا کہ اے ام سلمہ ! تمہارے خاوند ابو سلمہ یہیں پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔تم خدا کی برکت کے ساتھ اس جگہ میں داخل ہو جاؤ اور پھر عثمان واپس مکہ کو چلے گئے۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحہ 333، ذكر المهاجرين الى المدينه، دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2001) ہجرت کے دوسرے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ عشیرہ کے لئے نکلے تو ابو سلمہ کو مدینہ میں امیر مقرر فرمایا۔(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد سوم صفحہ 71، عبد اللہ بن عبد الاسد ، دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان 2002ء) غزوہ عشیرہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " جمادی الاولی میں پھر قریش مکہ کی طرف سے کوئی خبر پا کر آپ مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور اپنے پیچھے اپنے رضاعی بھائی ابو سلمہ بن عبدالاسد کو امیر مقرر فرمایا۔اس غزوہ میں آپ کئی چکر کاٹتے ہوئے بالآخر ساحل سمندر کے قریب ینبع کے مقام خیرہ تک پہنچے۔اور گو قریش کا مقابلہ نہیں ہوا مگر اس میں آپ نے قبیلہ بنو مذی کے ساتھ انہی شرائط پر جو بنو شمرہ کے ساتھ قرار پائی تھیں ایک معاہدہ طے فرمایا اور پھر واپس تشریف لے آئے۔" (سیرت خاتم النبین صلی الله علم از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 329) بنو عمرہ کے ساتھ یہ شرائط طے پائی تھیں کہ بنو شمرہ مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مسلمانوں کی مدد کے لئے بلائیں گے تو وہ فوراً آجائیں گے۔دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد