خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 327
خطبات مسرور جلد 16 327 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 سے نکل گیا۔(ان کا پیچھا کر رہے تھے کہ جانے نہیں دینا لیکن وہ چلے گئے۔چنانچہ انہوں نے ان مہاجرین کا پیچھا کیا مگر جب ان کے آدمی ساحل پر پہنچے تو جہاز روانہ ہو چکا تھا اس لئے خائب و خاسر واپس لوٹے۔حبشہ میں پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکار املا۔(سیرت خاتم النبین ملی ایلام از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 146-147) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو سلمہ نے (حبشہ سے واپس آنے کے بعد ) حضرت ابو طالب سے پناہ طلب کی تو بنو مخزوم میں سے چند اشخاص ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ تم نے اپنے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو تو اپنی پناہ میں رکھا ہی ہوا ہے مگر ہمارے بھائی ابو سلمہ کو تم نے کیوں پناہ دی ہے ؟ ابو طالب نے کہا اس نے مجھے سے پناہ طلب کی اور وہ میرا بھانجا بھی ہے اور اگر اپنے بھتیجے کو پناہ نہ دیتا تو بھانجے کو بھی پناہ نہ دیتا۔ابولہب نے بنو مخزوم کے لوگوں سے کہا کہ تم ہمیشہ ہمارے بزرگ ابو طالب کو آکر ستاتے ہو اور طرح طرح کی باتیں کرتے ہو بخدایا تو تم اس سے باز آجاؤ ورنہ ہم ہر ایک کام میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے یہانتک کہ وہ اپنے ارادے کی تکمیل کر لے۔اس پر ان لوگوں نے (ابو لہب کو مخاطب کرتے ہوئے) کہا کہ اے ابو عتبہ ! جس چیز کو تو نا پسند کرتا ہے ہم بھی اس سے پیچھے ہٹتے ہیں۔ابولہب کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بنو مخزوم کا دوست تھا اور مدد گار بھی تھا اس لئے وہ لوگ اس بات سے باز آگئے کہ ان کو ابو سلمہ کے بارے میں کچھ زور دیں یازیادتی کریں۔ابو طالب کو ابو لہب سے موافقت کی بات سن کر جب انہوں نے موافقت کی بات سنی کہ وہ میرے موافق بات کر رہا ہے اور دوسرے قبیلہ کو روک دیا ہے) امید بندھی کہ یہ بھی ہماری امداد پر آمادہ ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے چند اشعار کہے جن میں ابو لہب کی تعریف کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد پر اسے ترغیب دلائی۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 269-270 ، قصة ابي سلمة في جواره، دارالکتب العلميه بيروت لبنان 2001) لیکن بہر حال اس کا اثر کوئی نہیں ہوا اور مخالفت میں بڑھتا چلا گیا۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اُم المومنین حضرت اُم سلمہ سے روایت ہے کہ جب میرے خاوند حضرت ابو سلمہ نے مدینہ جانے کا قصد کیا تو اپنے اونٹ کو تیار کیا اور مجھے اور بیٹے سلمہ کو جو میری گود میں تھا اس پر سوار کروایا اور پھر چل پڑے۔آگے جا کر بنو مخزوم کے چند لوگوں نے گھیر لیا اور کہا کہ ام سلمہ ہماری لڑکی ہے ہم اس کو تمہارے ساتھ نہیں جانے دیں گے کہ تم اسے لے کر شہر بہ شہر پھرتے رہو۔حضرت اُم سلمہ کہتی ہیں غرض یہ کہ ان لوگوں نے میرے خاوند کو مجھ سے چھین لیا۔حضرت ابو سلمہ کے قبیلہ بنو عبد الاسد کے لوگ اس بات پر بہت خفا ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یہ لڑکا ابو سلمہ کا ہے اس کو ہم تمہارے پاس نہیں چھوڑیں گے چنانچہ وہ میرے بچے کو لے گئے۔(لڑکی کو اس کے قبیلے نے رکھ لیا اور جو بچہ تھا وہ مرد کے قبیلے والے نے لے لیا۔) اور کہتی ہیں کہ میں بالکل تنہارہ گئی۔میں ایک سال تک اسی مصیبت میں گرفتار رہی کہ ہر روز انطح مقام پر جا کر میں روتی رہی۔ایک روز میرے چاکے بیٹوں میں سے ایک شخص نے مجھے وہاں روتے دیکھا تو اس کو مجھ پر رحم آیا اور اس نے میری قوم بنو مغیرۃ سے جا کر کہا کہ تم اس مسکین عورت کو کیوں ستاتے ہو۔تم نے اس کو اس کے خاوند اور بچے سے جدا کر دیا ہے اس کو چھوڑ دو۔اس پر انہوں نے مجھے کہہ دیا کہ