خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 326
خطبات مسرور جلد 16 326 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن حارث، حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد، حضرت ارقم بن ابو ارقم اور حضرت عثمان بن مظعون حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا جس پر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور یہ شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت اور راستی پر ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد اپنی بیوی حضرت ام سلمہ کے ہمراہ پہلی ہجرت حبشہ میں شامل ہوئے۔حبشہ سے واپس مکہ آنے کے بعد مدینہ ہجرت کی۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد خامس صفحه 153 ابو سلمه مکتبه دارالفكر بيروت لبنان 2003ء) سیرت خاتم النبیین میں ان کی ہجرت حبشہ کا ذکر ملتا ہے کہ "جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی اور قریش اپنی ایذا رسانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے۔اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہو تا۔حبشہ کا ملک جسے انگریزی میں ایتھو پیایا ابے سینیا کہتے ہیں براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقعہ ہے اور جائے وقوع کے لحاظ سے جنوبی عرب کے بالکل مقابل پر ہے اور درمیان میں بحر احمر کے سوا کوئی اور ملک حائل نہیں۔اس زمانے میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشی کہلا تا تھا بلکہ اب تک بھی وہاں کا حکمران اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے۔" حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " ان ایام میں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں حبشہ کا دارالسلطنت اکسوم (AXSUN) تھا جو موجودہ شہر عدوا (ADOWA) کے قریب واقع ہے اور اب تک ایک مقدس شہر کی صورت میں آباد چلا آتا ہے۔اکسوم ان دنوں میں ایک بڑی طاقتور حکومت کا مرکز تھا اور اس وقت کے نجاشی کا ذاتی نام اضحمہ تھا جو ایک عادل اور بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔بہر حال جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ جن جن سے ممکن ہو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر ماہ رجب 5 نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عبد الرحمن بن عوف، زبیر بن العوام ، ابو حذیفہ بن عتبہ ، عثمان بن مطعون، مصعب بن عمیر ، ابو سلمہ بن عبد الاسد اور ان کی زوجہ حضرت اُم سلمہ۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقتور قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور کمزور لوگ کم نظر آتے ہیں جس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے۔اول یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہ تھے۔دوسرے یہ کہ کمزور لوگ مثلاً غلام و غیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی بھی طاقت نہ رکھتے تھے۔جب یہ مہاجرین جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے شعیہ پہنچے جو اس زمانے میں عرب کا ایک بندر گاہ تھا تو اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان کو ایک تجارتی جہاز مل گیا جو حبشہ کی طرف روانہ ہونے کو بالکل تیار تھا۔چنانچہ یہ سب امن سے اس میں سوار ہو گئے اور جہاز روانہ ہو گیا۔قریش مکہ کو ان کی ہجرت کا علم ہوا تو سخت برہم ہوئے کہ یہ شکار مفت میں ہاتھ