خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 325
خطبات مسرور جلد 16 325 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 ہے اور اس کی عظمت کا متوالا ہو جاتا ہے۔اس کے اس فقرے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً فرمایا کہ تو نے ایک بڑی ہستی کا واسطہ دیا ہے اور اس کی پناہ مانگی ہے جو بڑا اپناہ دینے والا ہے اس لئے میں تیری درخواست کو قبول کرتا ہوں۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت باہر تشریف لے آئے اور فرمایا کہ اے ابو اسید اسے دو چادریں دے دو اور اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔چنانچہ اس کے بعد اسے مہر کے حصہ کے علاوہ بطور احسان دور از قی چادریں دینے کا آپ نے حکم دیا تا کہ قرآن کریم کا حکم وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ پورا ہو۔یعنی آپس میں احسان کا سلوک بھول نہ جایا کرو۔اس کے مطابق آپ نے زائد دیا، احسان کیا۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ جو ایسی عورتوں کے متعلق ہے جن کو بلا صحبت طلاق دے دی جائے اور آپ نے اسے رخصت کر دیا اور ابو اسید ہی اس کو اس کے گھر پہنچا آئے۔اس کے قبیلے کے لوگوں پر یہ بات نہایت شاق گزری اور انہوں نے اس کو ملامت کی۔مگر وہ یہی جواب دیتی رہی کہ یہ میری بد بختی ہے اور بعض دفعہ اس نے یہ بھی کہا کہ مجھے ورغلایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس آئیں تو تم پرے ہٹ جانا اور نفرت کا اظہار کرنا۔اس طرح ان پر تمہارا رعب قائم ہو جائے گا۔معلوم نہیں یہی وجہ ہوئی یا کوئی اور۔بہر حال اس نے نفرت کا اظہار کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے علیحدہ ہو گئے اور اسے رخصت کر دیا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 533-535 تفسير سورة البقرة: آيت 228) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو بیویوں کا الزام لگاتے ہیں کہ خوبصورت عورتوں کے نعوذ باللہ دلدادہ تھے۔یہ جو سارا واقعہ ہے ان کے لئے کافی جواب ہے۔حضرت ابو اسید کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ نے کبھی انکار نہیں فرمایا۔(مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 409 کتاب علامات النبوة باب في جوده حديث 14179 ، دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) دوسرے صحابی جو وہ ہیں حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد ہیں۔ان کا نام عبد اللہ تھا اور کنیت ابو سلمہ۔آب کی والدہ بڑہ بنت عبد المطلب تھیں اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھو پھی زاد بھائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حمزہ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔انہوں نے ابو لہب کی لونڈی تثویبہ کا دودھ پیا تھا۔حضرت اُم المومنین اُمّ سلمہ پہلے آپ کے نکاح میں تھیں۔(اسدالغابه جلد 3 صفحہ 295، عبدالله عبد الاسد دار الكتب العلميه بيروت لبنان) بن اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ: ابوسلمہ بن عبد الاسد تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے اور بنو مخزوم سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی وفات پر ان کی بیوہ اُم سلمہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی ہوئی۔" (سیرت خاتم النبین صلى الله ام از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 124) حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد اسلام میں سبقت کرنے والے لوگوں میں سے ہیں۔ابن اسحاق کے مطابق دس آدمیوں کے بعد آپ اسلام لائے۔یعنی ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب، جلد سوم صفحہ 71، عبد الله بن عبد الاسد، دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2002ء)