خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 324

خطبات مسرور جلد 16 324 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 تھی۔اس کا بھائی لقمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے بطور وفد حاضر ہوا اور اس موقع پر اس نے یہ بھی خواہش کی کہ اپنی ہمشیرہ کی شادی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دے اور بالمشافہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست بھی کر دی کہ میری بہن جو پہلے ایک رشتہ دار سے بیاہی ہوئی تھی اب بیوہ ہے اور نہایت خوبصورت اور لائق بھی ہے آپ اس سے شادی کر لیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ قبائل عرب کا اتحاد منظور تھا اس لئے آپ نے اس کی یہ دعوت منظور کرلی اور فرمایا کہ ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی پر نکاح پڑھ دیا جائے۔اس نے کہا یا رسول اللہ ہم معزز لوگ ہیں۔بڑے رئیس لوگ ہیں یہ مہر تھوڑا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس سے زیادہ میں نے اپنی کسی بیوی یا لڑکی کا مہر نہیں باندھا۔جب اس نے رضامندی کا اظہار کر دیا اور اس نے کہا ٹھیک ہے تو نکاح پڑھا گیا اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ کسی آدمی کو بھیج کر اپنی بیوی منگوا لیجئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو اسید کو اس کام پر مقرر کیا۔وہ وہاں تشریف لے گئے۔جو نیہ نے ان کو اپنے گھر بلایا تو حضرت اُسید نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں پر حجاب نازل ہو چکا ہے۔اس پر اس نے دوسری ہدایات دریافت کیں جو آپ نے انہیں بتا دیں اور اونٹ پر بٹھا کر مدینہ لے آئے اور ایک مکان میں جس کے گرد کھجوروں کے درخت بھی تھے لا کر اتارا۔اس عورت کے ساتھ جس کی شادی ہوئی تھی اس کی دایہ بھی اس کے رشتہ داروں نے روانہ کی تھی۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ جس طرح ہمارے ملکوں میں بھی ایک بے تکلف نو کر ساتھ جاتی ہے۔بڑے لوگ، امیر لوگ بھیجا کرتے تھے اس زمانے میں۔اب تو یہ رواج نہیں، پرانے زمانے میں ہو تا تھا تا کہ اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔چونکہ یہ عورت جو تھی جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی ہوئی تھی یا جس کے بھائی نے رشتہ پیش کیا تھا، شادی کی خواہش کی تھی اور پھر نکاح بھی ہو گیا تھا یہ عورت بڑی حسین مشہور تھی اور یوں بھی عورتوں کو دلہن دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔محلے کی ، قریب کی جو دوسری عورتیں ہوتی ہیں جب کوئی نو بیاہتاد لہن آئے تو انہیں اس کو دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔مدینہ کی عور تیں بھی اس عورت کو دیکھنے گئیں۔اس کی خوبصورتی بڑی مشہور تھی اور اس عورت کے بیان کے مطابق کسی عورت نے اس کو سکھا دیا کہ رعب پہلے دن ہی ڈالا جاتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس آئیں تو تو کہہ دیجیو کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔اس پر وہ تیرے زیادہ گرویدہ ہو جائیں گے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اگر یہ بات اس عورت کی بنائی ہوئی نہیں تو کچھ تعجب نہیں کہ کسی منافق نے اپنی بیوی یا اور کسی رشتہ دار کے ذریعہ یہ شرارت کی ہو۔غرض جب اس کی آمد کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ اس گھر کی طرف تشریف لے گئے جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔احادیث میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اس سے فرمایا کہ تو اپنا نفس مجھے ہبہ کر دے۔اس نے جواب دیا کہ کیا ملکہ بھی اپنے آپ کو عام آدمیوں کے سپرد کیا کرتی ہے ؟ ابو اسید کہتے ہیں کہ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ اجنبیت کی وجہ سے گھبرارہی ہے اسے تسلی دینے کے لئے اس پر اپنا ہاتھ رکھا۔آپ نے اپنا ہاتھ ابھی رکھا ہی تھا کہ اس نے یہ نہایت گندہ اور نامعقول فقرہ کہہ دیا کہ میں تجھ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتی ہوں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ چونکہ نبی خدا تعالیٰ کا نام سن کر ادب کی روح سے بھر جاتا