خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 323
خطبات مسرور جلد 16 323 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو آزمائش میں ڈالنا چاہا تو میری بینائی ختم کر دی۔(المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحہ 591 كتاب معرفة الصحابة حديث 6189 ،مطبوعه دار الكتب العلميه بیروت 2002ء) میری نظر ختم ہو گئی تاکہ میں ان بری حالتوں کو نہ دیکھ سکوں۔حضرت عثمان بن عبید اللہ جو حضرت سعد بن ابی وقاص کے آزاد کردہ غلام تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ، حضرت ابو ہریرۃ، حضرت ابو قتادہ اور حضرت ابواسید ساعدی کو دیکھا۔یہ حضرات ہم پر سے گزرتے تھے اس حال میں کہ ہم مکتب میں ہوتے تھے تو ہم ان سے عبیر کی خوشبو محسوس کیا کرتے تھے۔یہ خوشبو ہے جو زعفران اور کئی چیزوں سے ملا کر بنائی جاتی ہے۔(مصنف ابن ابی شیبة جلد 6 صفحہ 216 کتاب الادب باب ما يستحب للرجال ان يوجد ريحه منه، دار الفکر بیروت) مروان بن الحکم حضرت ابو اسید ساعدی کو صدقے پر عامل بنایا کرتے تھے۔یعنی اکٹھا کرنے کے لئے اور اس کی تقسیم کے لئے۔حضرت ابو اسید ساعدی جب دروازے پر آتے تو اونٹ بٹھاتے اور ان کو تمام چیزیں تقسیم کے لئے دیتے۔آخری چیز جو ان کو دیتے وہ چابک ہوتا۔اسے دیتے ہوئے یوں کہتے کہ یہ تمہارے مال میں سے ہے۔حضرت ابواسید ایک مرتبہ زکوۃ کا مال تقسیم کرنے آئے اور جو سامان تھا وہ پورا تقسیم کر کے چلے گئے۔گھر میں جاکر جو سوئے تو خواب میں انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ ان کی گردن سے لپٹ گیا ہے۔وہ گھبر ا کر اٹھے اور پوچھا کہ اے فلاں ! ( خادمہ سے یا بیوی سے پوچھا کہ ) کیا مال میں سے کوئی چیز رہ گئی ہے جو تقسیم کرنے کے لئے مجھے دی گئی تھی۔وہ بولی کہ نہیں۔حضرت ابو اسید نے فرمایا کہ پھر کیا بات ہے کہ سانپ میری گردن میں لپٹ گیا تھا۔دیکھو شاید کچھ رہ گیا ہو۔جب انہوں نے دیکھا تو وہ بولی کہ ہاں اونٹ کو باندھنے والی ایک رسی ہے جس کے ساتھ ایک تھیلے کا منہ باندھ دیا گیا تھا۔چنانچہ حضرت ابو اسید نے وہ رستی بھی جا کر ان کو واپس کر دی۔(شعب الايمان للبيهقى جلد 5 صفحه 167 حدیث نمبر 3247 مكتبة الرشد ناشرون رياض2003ء) اللہ تعالیٰ ان صحابہ کو تقویٰ کے باریک ترین معیاروں پر رکھ کر امانت کی ادائیگی کے اعلیٰ ترین معیار قائم کروانا چاہتا تھا اور اسی لئے پھر خوابوں میں بھی ان کی رہنمائی ہو جاتی تھی۔عمارہ بن غربیہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ کچھ جوانوں نے حضرت ابواسید سے انصار کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ فضائل کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار کے تمام قبائل میں سب سے اچھے بنو نجار کے گھرانے ہیں۔پھر بنو عبد الا ستحصل، پھر بنو حارث بن خزرج، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔حضرت ابواسید اس پر فرماتے تھے کہ اگر میں حق کے سوا کسی چیز کو قبول کرنے والا ہو تا تو میں بنو ساعدہ کے کسی خاندان سے شروع کرتا۔(المستحرك على الصحيحين جلد 3 صفحہ 592 کتاب معرفۃ الصحابه حديث 6194 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ تاریخ کے حوالے سے ذکر فرمایا ہے کہ جب عرب فتح ہوا اور اسلام پھیلنے لگا تو کندہ قبیلہ کی ایک عورت جس کا اسماء یا امیمہ نام تھا اور وہ جونیہ یا بنت الجون بھی کہلاتی