خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 322 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 322

خطبات مسرور جلد 16 322 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جولائی 2018 کو روتے ہوئے دیکھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اس نے کہا کہ اس نے میرے اور میرے بیٹے کے درمیان بنو عبس میں فروخت کر کے دوری ڈال دی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدی کے مالک کو بلایا۔جب بلایا تو دیکھا کہ وہ ابو اسید ساعدی تھے۔آپ نے پوچھا کیا تم نے اس کے اور اس کے بچے کے درمیان دوری ڈالی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ بچہ چلنے سے معذور تھا اور یہ اس کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتی تھیں۔اس لئے میں نے اس کو بنو عبس میں فروخت کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم خود جا کر اسے لے کے آؤ۔چنانچہ حضرت ابو اسید جا کر اس بچے کو واپس لائے اور اسے اس کی ماں کو لوٹا دیا۔(شرف المصطفى جلد 4 صفحہ 400، جامعه ابواب صفة اخلاقه و آدابه الله الله حدیث 1649 مطبوعه دار البشائر الاسلامية مكه 2003ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس میں طاقت ہے یا نہیں ، چاہے وہ قیدی ہو یا لونڈی ہو یا غلام ہو لیکن ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہیں دی جاسکتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ لگوائی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جس پر حضرت بلال سوار تھے سب اونٹوں سے آگے نکل گئی۔اسی طرح آپ کا ایک گھوڑا تھا۔گھوڑوں کی دوڑ لگوائی اور آپ کے گھوڑے پر ابو اسید ساعدی سوار تھے اور اس نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔امتاع الاسماع جلد اول صفحه 212 حماية النقيع لخيل المسلمين دار الكتب العلمية بيروت 1999ء) حضرت سہل بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو اُسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں ان کے بیٹے منذر بن ابی اسید پیدا ہوئے تو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔آپ نے اس بچے کو اپنی ران پر بٹھالیا۔اس وقت حضرت ابواسید بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول ہو گئے۔حضرت ابواسید نے اشارہ کیا تو لوگ منذر کو آپ کی ران پر سے اٹھا کر لے گئے۔جب آپ کو فراغت ہوئی تو پوچھا کہ بچہ کہاں گیا؟ حضرت ابواسید نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے اس کو گھر بھیج دیا ہے۔آپ نے پوچھا اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ ابو اسید نے کوئی نام بتایا کہ فلاں نام رکھا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔اس کا نام منذ رہے۔آپ نے اس دن اس کا نام منذر رکھا۔(صحيح البخارى كتاب الادب باب تحويل الاسم الى اسم احسن منه حديث 6191) شارحین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بچے کا نام منذر رکھنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضرت ابو اسید کے چچازاد بھائی کا نام منذر بن عمر و تھا جو بئر معونہ میں شہید ہوئے تھے۔پس یہ نام تفاؤل کی وجہ سے رکھا گیا تھا کہ وہ بھی ان کے اچھے جانشین ثابت ہوں۔(فتح الباري شرح صحیح البخاری کتاب المغازی جلد 7 صفحہ 497 حدیث 4094 مطبوعه قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی) حضرت سلیمان بن کیسار سے مروی ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت سے پہلے حضرت ابواسید الساعدی کی بینائی زائل ہو گئی۔نظر آنا بند ہو گیا۔آنکھیں خراب ہو گئیں تو اس بات پر آپ کہا کرتے تھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں بینائی سے نوازا اور وہ ساری برکات میں نے دیکھیں اور پھر