خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 318

خطبات مسرور جلد 16 318 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 یہ غلط چیز ہے۔اصل یہی ہے کہ فرشتے انسانی قوی کو صحیح طرح رہنمائی کرتے ہیں اور ان کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور فرشتوں کی طرف سے جب یہ ہو رہا ہو تا ہے تو وہی فرشتوں کا لڑنا ہے۔حضرت یحیی نے معاذ بن رفائلہ بن رافع سے روایت کی ہے۔حضرت رفاعہ اہل بدر میں سے اور ان کے والد حضرت رافع عقبہ میں بیعت کرنے والوں میں سے ایک تھے۔حضرت رافع اپنے بیٹے حضرت رِقلعہ سے کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ بات خوش نہ کرتی کہ بجائے بدر میں شریک ہونے کے میں عقبہ میں بیعت کرنے والوں میں شامل ہوتا۔یعنی یہ بات میرے لئے بہت بڑی بات ہے ، میرے لئے یہ زیادہ قابل اعزاز ہے کہ میں جنگ بدر میں شامل ہوا بہ نسبت اس کے کہ بیعت عقبہ میں میں نے بیعت کی۔(صحيح البخاری کتاب المغازی باب شهود الملائكة بدرا حديث 3993) ایک بہت بڑا اعزاز مجھے جنگ بدر میں شامل ہو کے ملا۔حضرت رِفائہ بن رافع جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی کے ہمراہ تھے۔ایک روایت کے مطابق جب حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بصرہ کی طرف لشکر کے ہمراہ نکلے تو حضرت عباس بن عبد المطلب کی اہلیہ ام الفضل بنت حارث نے حضرت علی کو ان کے خروج کی اطلاع دی۔اس پر حضرت علیؓ نے کہا حیرت ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان پر حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا اور بغیر اکراہ کے میری بیعت کی۔میں نے زبر دستی تو نہیں کہا تھا کہ بیعت کرو۔لوگوں نے میری بیعت کی اور طلحہ اور زبیر نے بھی میری بیعت کی اور اب وہ لشکر کے ہمراہ عراق کی طرف نکل پڑے ہیں۔اس پر حضرت پر قائد بن رافع نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ہمارا گمان تھا کہ ہم لوگ یعنی انصار اس خلافت کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور ہمارا مقام دین میں بڑا ہے مگر آپ لوگوں نے کہا کہ ہم مہاجرین اولین ہیں اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست اور قریبی ہیں اور ہم تمہیں اللہ کی یاد دلاتے ہیں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی میں ہم سے مزاحمت نہ کرو اور تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم نے اس وقت تمہیں اور (خلافت کے ) امر کو چھوڑ دیا تھا۔( ہم نے پھر بحث نہیں کی اور بالکل کامل اطاعت کے ساتھ خلافت کی بیعت کر لی۔اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ہم نے دیکھا کہ حق پر عمل ہو رہا ہے اور کتاب اللہ کی پیروی کی جارہی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قائم ہے تو ہمارے پاس راضی ہونے کے علاوہ کوئی اور چارہ ہی نہ تھا اور اس کے سوا ہمیں کیا چاہئے تھا اور ہم نے آپ کی بیعت کی اور پھر اس سے رجوع نہیں کیا۔(پھر پیچھے ہٹے نہیں۔اب آپ سے ان لوگوں نے مخالفت کی ہے جن سے آپ بہتر ہیں اور زیادہ پسندیدہ ہیں۔پس آپ ہمیں اپنے حکم سے مطلع فرمائیں۔اسی اثناء میں حجانج بن عربیہ انصاری آئے اور انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین! اس معاملے کا تدارک اس سے پہلے کرنا چاہئے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔میری جان کو کبھی چین نصیب نہ ہو ، اگر میں موت کا خوف کروں۔اے انصار کے گروہ ! امیر المومنین کی دوسری دفعہ مد د کرو جس طرح تم نے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تھی۔اللہ کی قسم ! یہ دوسری مدد پہلی مدد کی مانند ہو گی سوائے اس کے کہ ان دونوں میں سے پہلی مد دافضل ہے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحہ 280-281 رفاعة بن رافع مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت)