خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 317

خطبات مسرور جلد 16 317 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 وسلم سے دلی ہمدردی رکھنا اور آپ کو مدینہ منورہ میں قریش مکہ کے بد ارادوں اور منصوبوں سے آگاہ کرتے رہنا یعنی حضرت عباس کے ذریعہ سے۔" یہ بھی ملائکتہ اللہ کے تصرف کا ایک حصہ ہے۔" یہ ملائکہ اس طرح کام کرتے ہیں۔" ان سب واقعات کے پس پردہ ملائکہ ہی کی تحریک کار فرما تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور فتح و ظفر مندی کا پس منظر ایمان افروز آیت آئی حمل كُمْ بِالْفِ مِنَ الْمَلِئِكَةِ مُرْدِفِينَ (الانفال:10) کی تفسیر پیش کرتا ہے۔" پھر شاہ صاحب مزید فرماتے ہیں کہ "میں نے صحیح بخاری مکمل حضرت خلیفہ اول حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے سبقا سبقا پڑھی ہے اور اسی طرح قرآن مجید بھی کئی بار در سا در سأسنا اور پڑھا ہے۔آپ یعنی حضرت خلیفتہ المسیح الاول " ملائکتہ اللہ کے تعلق میں فرمایا کرتے تھے کہ نور الدین کو بھی ملائکتہ اللہ سے ہمکلام ہونے کا موقع ملا ہے اور نظام ملکی بہت وسیع نظام ہے۔انسان کے قومی اور ملکات میں سے ہر قوت و ملکہ کے لئے بھی ملائکہ متعین ہیں۔قوت بصر و بصیرت، قوت سمع و سماعت، قوت لمس و بطش اور عقل و شعور اور قوائے مفکرۃ و مدیرہ کے ساتھ اگر ملائکتہ اللہ کی مدد اور ہم آہنگی نہ ہو تو یہ قوتیں بریکار بلکہ نقصان دہ ہو جاتی ہیں۔"ساری انسانی استعدادیں اور قوتیں جو ہیں وہ فرشتوں کی وجہ سے ہی کارآمد ہوتی ہیں۔" پھر لکھتے ہیں کہ " تیر یا گولی کی شست و نشست اسی وقت اپنے نشانے پر راس آسکتی ہے جب عقل و شعور اپنے ٹھکانے پر اور دور ونزدیک کے فاصلے کا اندازہ صحیح ہو۔اوسان بجا ہوں۔قوت قلبیہ بر قرار ہو ورنہ تیر خطا جائے گا۔"لکھتے ہیں کہ خلیفہ اول " فرمایا کرتے تھے کہ ایک ایک ذہنی اور جسمانی قوت کے ساتھ ملائکتہ اللہ متعین ہیں اور ان کا تعلق ہر انسان کی ہر قوت سے مختلف حالات کفر و ایمان میں کم و بیش ہوتا ہے۔قرآن مجید نے ان کی تعداد غزوہ بدر کے ذکر میں تین ہز ار اور غزوہ اُحد میں پانچ ہزار بتائی ہے۔یہ فرق موقع و محل کے اختلاف اور اہمیت فرضِ منصبی کی وجہ سے ہے۔جنگ بدر میں دشمن کی تعداد کم اور جنگ اُحد میں زیادہ اور اسی نسبت سے خطرہ بھی زیادہ اور ملائکہ کی حفاظت بھی زیادہ تعداد میں نازل کئے جانے کا وعدہ ہے۔فرماتا ہے وَمَا النَّصْرُ الَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران:127) "کہ" موعودہ نصرت الہی کا ظہور اللہ تعالیٰ کی صفت عزیزیت اور صفت حکیمیت سے ہے۔یہ دونوں صفتیں حسن تدبیر اور کامل غلبہ واستحکام کی متقاضی ہیں جن میں اسباب نصرت کے تمام حلقے ایک دوسرے سے پیہم پیوست ہوتے ہیں۔ان میں تسلسل و احکام پایا جاتا ہے اور وہ محکم تدبیر الہی سے قومی و مضبوط کئے جاتے ہیں۔" (صحيح البخاری کتاب المغازی باب شهود الملائكة بدرا جلد 8 صفحہ 718 تا 73 نظارت اشارت ربوہ ) تو یہ ہے وہ ساری اس علم کی گہرائی جو ملائکۃ اللہ کے جنگ کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتے بھیجے تھے جو جنگ کر رہے تھے نہ یہ کہ فرشتے خود مار رہے تھے۔اور بعضوں کے نزدیک تو یہ بھی روایتوں میں ہے کہ فرشتوں نے جن کو مارا اور جن کو زخم لگائے ان کی پہچان بالکل علیحدہ تھی اور جو صحابہ کے ذریعہ سے لوگوں کو زخم پہنچ رہے تھے ان کی پہچان علیحدہ تھی۔(فتح الباري شرح صحيح البخارى كتاب الغازى باب شهود الملائكة بدرا جلد 7 صفحہ 396 حدیث 3992 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی)