خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 319
خطبات مسرور جلد 16 319 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06جولائی 2018 بہر حال ان کی وفات حضرت امیر معاویہ کی امارت کے ابتدائی ایام میں ہوئی۔(الاستیعاب جلد 2 صفحہ 497 رفاعه بن رافع مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) تو یہ تھا صحابہ کا ذکر۔گزشتہ خطبہ کے واقعہ کے حوالے سے بھی بات کرنا چاہتا ہوں۔ایک واقعہ کی مزید وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے حضرت عمار کے بارے میں بیان کیا تھا کہ حضرت عمر و بن عاص نے ان کی وفات پر بڑے افسوس اور فکر کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا تھا کہ عمار بن یاسر کو باغی گروہ قتل کرے گا اور حضرت عمرو بن عاص کو فکر اس لئے تھی کہ وہ امیر معاویہ کی طرف تھے اور حضرت عمار کو شہید کرنے والے حضرت امیر معاویہ کے فوجی تھے۔(المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 474 كتاب معرفة الصحابه ذكر مناقب عمار بن یاسر حدیث 5726 مطبوعه دار الحرمين للطباعة والنشر والتوزيع1997ء) بہر حال اس بات پر بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب یہ باغی گروپ میں تھے تو پھر ان کا نام اتنی عزت سے کیوں لیا جاتا ہے اور حضرت امیر معاویہ کو بھی جماعت کے لٹریچر میں ایک مقام ہے۔پہلی بات تو یہ کہ صحابہ کاجو مقام ہے ہمارا کام نہیں کہ ہم کہیں کہ یہ بخشا جائے گا اور یہ نہیں بخشا جائے گا۔جس بھی غلط فہمی یا غلطی کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ ہوا اس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔اس کا خمیازہ مسلمانوں نے بھگتا بھی۔یہ سوال ان لوگوں کے ذہنوں میں اٹھتے تھے جو اس زمانے میں تھے اور پھر وہ اپنی بے چینی کو دور کرنے کے لئے دعا بھی کرتے ہوں گے کہ یہ کیا ہو گیا کہ یہ بھی صحابی اور وہ بھی صحابی اور ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی بھی مانگتے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی بھی فرماتا تھا)۔چنانچہ ایک روایت ہے ابو ضعفی سے مروی ہے کہ عمرو بن شتر خیل ابو میسرۃ نے (جو حضرت عبد اللہ بن مسعود کے فاضل شاگردوں میں سے تھے ) خواب میں دیکھا کہ ایک سر سبز باغ ہے جس میں چند خیمے نصب تھے۔ان میں حضرت عمار بن یاسر بھی تھے اور چند اور خیمے تھے جن میں ذُوالكَلاع تھے۔تو ابو میسرۃ نے پوچھا یہ کیسے ہو گیا کہ ان لوگوں نے تو باہم قتال کیا تھا، جنگ کی تھی۔جواب ملا کہ ان لوگوں نے پروردگار کو واسِعُ الْمَغْفِرَة یعنی بہت بڑا بخشش والا پایا ہے اس لئے اب وہاں اکٹھے ہو گئے۔(السنن الكبرى للبيهقى جلد 8 صفحه 302 کتاب قتال اهل البغى باب الدليل على ان فئة الباغية۔۔۔الخ حديث 16720 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الطبقات الكبرى :جلد 3 صفحه: 200 عمار بن یاسر مطبوعه دارالكتب العلمية بيروت 1990ء) پس یہ معاملات اب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہیں۔ان معاملات اور اختلافات کو ہمارا کام نہیں کہ اپنے دلوں میں جگہ دیں۔ان معاملات کو دلوں میں رکھنے کی وجہ سے اور جنگوں کی وجہ سے ہی مسلمانوں کے دلوں میں دوری بڑھتی چلی گئی اور مسلمانوں میں اور تفرقہ پید اہو تا چلا گیا اور اس کا نتیجہ ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔یہ باتیں ہمارے لئے بھی سبق ہیں کہ ان باتوں کو دلوں میں لانے کی بجائے وحدت پر قائم ہوں۔جب ایک دفعہ میں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے امیر معاویہ کا کوئی واقعہ بیان