خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 316
316 خطبات مسرور جلد 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ا ذ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَئِكَةِ إِنِّي مَعَكُمْ فَتَبْتُوا الَّذِيْنَ امَنُوْا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ (الانفال:13)" یہ وہ وقت تھا جب تیرا رب ملائکہ کو بھی وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔پس مؤمنوں کو ثابت قدم بناؤ۔میں کفار کے دلوں میں رعب ڈالوں گا۔" پس اے مومنو تم ان کی گردنوں پر حملے کرتے جاؤ اور ان کے پور پور پر ضر میں لگاتے جاؤ۔ضرب الأعناق، ضرب الرقاب اور ضَرْبُ كُلَّ بَنان سے مراد زور دار حملہ ہے جس میں نشانے کی صحت ملحوظ ہو۔"اس سے ملتی جلتی دو تین روایتیں ہیں ان کے بارے میں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ "روایات زیر باب میں فرشتوں کی موجودگی اور مشاہدے کا جو ذکر ہے وہ از قبیل مکاشفات ہے۔یعنی مکاشفہ کی صورت میں ہے " اور ان کی جنگ بھی اسی قسم کی ہے جو اُن کے مناسب حال ہے۔یعنی جو فرشتوں کے مناسب حال جنگ ہوتی ہے وہ ہے " نہ تیر و تفنگ کی۔فرشتوں نے کوئی تیر اور تلواریں نہیں اٹھائی تھیں۔" اور ان کا مشاہدہ روحانی بینائی سے ہوتا ہے ، نہ جسمانی آنکھ سے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مشاہدہ فرمایا اور صحابہ کرام نے بھی اور ایسا مشاہدہ اولیاء اللہ کو بھی ہوتا ہے۔" کہ ملائکۃ اللہ کس طرح لڑتے ہیں "ملائکہ اللہ ہی کے تصرف میں سے تھا یہ وضاحت شاہ صاحب کرتے ہیں " کہ عمائد قریش واقعہ نخلہ سے مشتعل ہو کر اپنے طیش میں آپے سے باہر ہو گئے اور یہی واقعہ بعد کی جنگوں کا ایک سبب بنا جن میں کفار قریش کی ہلاکت سے متعلق تقدیر الہی پوری ہوئی۔ملائکۃ اللہ کا طریق کار ہمارے طریقہ کار سے جدا اور ان کا اسلوب جنگ ہمارے اسلوب جنگ سے نرالا ہے۔بدر کے مقام پر دشمن کا عقل "تو ده ریگ" کے فراز میں پڑاؤ کرنا وہ اونچائی پر تھے "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نشیب وادی میں اترنا اور صحابہ کرام کی قلیل تعداد کادشمن کی نظر سے اوجھل رہنا، باد و باراں کا ظہور ، ( بارش ہو گئی۔اس کا ظہور ہونا) صحابہ کرام کا ایک ایک تیر کا اپنے نشانے پر ٹھیک بیٹھنا۔(جو بھی تیر صحابہ چلاتے تھے وہ نشانے پر صحیح بیٹھتا تھا۔اس کا صحیح بیٹھنا) اور کاری ثابت ہونا، دشمن کی سراسیمگی اور صحابہ کرام کی دلجمعی۔" دشمن پریشان تھا اور صحابہ کرام بڑی مستقل مزاجی اور دلجمعی سے جنگ لڑ رہے تھے۔" یہ سب ملائکتہ اللہ کے تصرف کا کرشمہ تھا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں دی تھی اِذْ تَسْتَغِيْثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِلٌ كُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ۔(الانفال: 10)" کہ اور اس وقت کو بھی یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے التجائیں کرتے تھے اس پر تمہارے رب نے تمہاری دعاؤں کو سنا اور کہا کہ میں تمہاری مدد ہزاروں فرشتوں سے کروں گا جن کا لشکر کے بعد لشکر بڑھ رہا ہو گا۔" پھر لکھتے ہیں کہ " دعائے نبوی کی قبولیت سے ظاہری اسباب میں جو جنبش پیدا ہوئی اس کے اندر ایک عجیب تسلسل دکھائی دیتا ہے۔اس کے حصوں پر یکجائی نظر ڈالنے سے ملائکتہ اللہ کا لشکر بیکراں کار فرما نظر آتا ہے۔"آپ بیان کرتے ہیں کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نازک گھڑی میں بحفاظت مکہ مکرمہ سے نکالا اور کس نے اہل مکہ کو غافل رکھا اور پھر کس نے انہیں غار ثور تک لا کر آپ کے تعاقب سے قریش کو نا امید واپس لوٹا دیا اور کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچایا جو اسلام کی ترقی کا اہم مرکز بنا۔" پھر لکھتے ہیں کہ "حضرت عباس کا ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ میں بحالت شرک رہنا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ