خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 315
خطبات مسرور جلد 16 315 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 پیارے ہیں۔یہ کہہ کر حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑا اور ان سے بیعت کی اور لوگوں نے بھی ان سے بیعت کی۔اس وقت سب نے پھر بیعت کر لی۔(صحيح البخارى كتاب فضائل اصحاب النبئ باب قول النبى لو كنت متخذا خليلا حديث 3668) حضرت محباب بن منذر سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ان دو باتوں میں سے کون سی آپ کو زیادہ پسند ہے ؟ یہ کہ آپ دنیا میں اپنے صحابہ کے ساتھ رہیں یا یہ کہ اپنے رب کی طرف ان وعدوں کے ساتھ لوٹیں جو اس نے نعمتوں والی جنتوں میں قائم رہنے والی نعمتوں کا آپ سے وعدہ کیا ہے اور اس کا بھی وعدہ کیا ہے کہ جو آپ کو پسند ہو اور جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ بتاؤ تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ تو صحابہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! ہمیں یہ بات زیادہ پسند ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہوں اور ہمیں ہمارے دشمن کی کمزوریوں سے آگاہ کریں اور اللہ سے دعا کریں تا کہ وہ ان کے خلاف ہماری مدد کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں آسمان کی خبروں سے آگاہ کریں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محباب بن مُنذر کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم نہیں بولتے ؟ بڑے خاموش بیٹھے ہو۔کہتے ہیں میں نے اس پر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جو آپ کے رب نے آپ کے لئے پسند فرمایا ہے وہ اختیار کریں۔پس آپ نے میری بات کو پسند فرمایا۔(المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 483 کتاب معرفة الصحابة ذكر مناقب الحباب بن المنذر حديث 5803 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) پھر ایک صحابی ہیں حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان۔یہ بھی انصاری ہیں۔ان کی وفات حضرت امیر معاویہ کی امارت کے ابتدائی ایام میں ہوئی۔حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان۔ان کی کنیت ابو معاذ ہے۔والدہ ام مالک بنت اُبی بن سلول تھیں جو عبد اللہ بن اُبی بن سلول سردار المنافقین کی بہن تھیں۔یہ بیعت عقبہ میں شریک تھے۔غزوہ بدر اور اُحد اور خندق اور بیعت رضوان اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔آپ کے دو بھائی تھے خلاد بن رافع اور مالک بن رافع۔یہ بھی غزوہ بدر میں شامل تھے۔(اسد الغابه جلد 2صفحه 279 رفاعه بن رافع مطبوعه دارالکتب العلمیة بیروت) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 447 رفاعه بن رافع مطبوعه دارالکتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت معاذ نے اپنے باپ حضرت رفاعہ بن رافع سے روایت کی ہے اور ان کے باپ اہل بدر میں سے تھے ، انہوں نے کہا کہ جبرئیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا آپ مسلمانوں میں اہل بدر کو کیا مقام دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ بہترین مسلم یا ایسا ہی کوئی کلمہ فرمایا۔حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا اور اسی طرح وہ ملائکہ بھی افضل ہیں جو جنگ بدر میں شریک ہوئے۔یہ بخاری کی روایت ہے۔(صحيح البخاری کتاب المغازی باب شهود الملائكة بدرا حديث 3992) ملائکہ کس طرح جنگ میں شریک ہوئے ؟ حضرت سید زین العابدین شاہ صاحب نے بخاری کی جو شرح لکھی ہے بخاری کی اس میں ان فرشتوں کے شریک ہونے کے حوالے سے جو وضاحت بیان کی ہے وہ اس طرح ہے