خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 314
خطبات مسرور جلد 16 314 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 يحيی بن سعید سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم قریظہ اور یوم النضیر کے موقع پر جب لوگوں سے مشورہ طلب کیا تو حضرت محباب بن منذر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہم محلات کے درمیان میں پڑاؤ کریں۔(یعنی ان کے قریب ترین جائیں تاکہ وہاں کی باتیں بھی معلوم ہو سکیں اور نگرانی بھی صحیح ہو سکے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس مشورہ پر عمل کیا۔حضرت عمر کے دور خلافت میں ان کی وفات ہوئی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 4277 428 حباب بن منذر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس وقت مسلمانوں کی جو صور تحال تھی اس کو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس طرح کنٹرول میں لائے اس کا یہ واقعہ ہے کہ "حضرت ابو بکر نے حمد و ثنا بیان کی اور کہا کہ دیکھو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پوجتا تھا سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو یقینا فوت ہو گئے اور جو اللہ کو پوجتا تھا تو اسے یاد رہے کہ اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا اور حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی۔إِنَّكَ مَيْت وَإِنَّهُمْ مَيْتُونَ (الزمر: 31) کہ تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔پھر انہوں نے یہ آیت بھی پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَ اللهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِى اللهُ الشَّكِرِينَ۔(آل عمران: 145) کہ محمد صرف ایک رسول ہیں۔آپ (صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پھر کیا اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فوت ہو جائیں یا قتل کئے جائیں تو تم اپنی ایڑھیوں کے بل پھر جاؤ گے اور جو کوئی اپنی ایڑھیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو ہر گز نقصان نہ پہنچا سکے گا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا۔سلیمان کہتے ہیں کہ یہ سن کر لوگ اتنا روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔سلیمان کہتے ہیں کہ اور انصار بنی ساعدہ کے گھر حضرت سعد بن عبادۃ کے پاس اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابو عبيدة بن الجراح ان کے پاس گئے۔حضرت عمر بولنے لگے تھے کہ حضرت ابو بکر نے انہیں خاموش کیا۔حضرت عمر کہتے تھے کہ اللہ کی قسم! میں نے جو بولنا چاہا تھا تو اس لئے کہ میں نے ایسی تقریر تیار کی تھی جو مجھے پسند آئی تھی اور مجھے ڈر تھا کہ حضرت ابو بکر اس تک نہ پہنچ سکیں گے یعنی ویسا نہ بول سکیں گے۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر نے تقریر کی اور ایسی تقریر کی جو بلاغت میں تمام لوگوں کی تقریروں سے بڑھ کر تھی۔انہوں نے اپنی تقریر کے اثناء میں یہ بھی کہا کہ ہم امیر ہیں اور تم وزیر ہو۔حُباب بن منذر نے یہ سن کر کہا کہ ہر گز نہیں۔یہاں یہ ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ محباب بن منذر کا یہاں ذکر آتا ہے۔محباب بن منذر نے یہ سن کر یہ کہا کہ ہر گز نہیں اللہ کی قسم ! ہر گز نہیں۔بخدا ہم ایسا نہیں کریں گے ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر آپ میں سے ہو گا۔یعنی قریش میں سے بھی ہو اور انصار میں سے بھی ہو۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نہیں بلکہ امیر ہم ہیں اور تم وزیر ہو۔کیونکہ یہ قریش لوگ بلحاظ نسب تمام عربوں سے اعلیٰ ہیں اور بلحاظ حسب وہ قدیمی عرب ہیں اس لئے عمر یا ابوعبیدہ کی بیعت کر لو۔حضرت عمر نے کہا نہیں بلکہ ہم تو آپ کی بیعت کریں گے کیونکہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے زیادہ