خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 313
خطبات مسرور جلد 16 313 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 غزوہ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے اور موت پر آپ سے بیعت کی۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 665 حباب بن منذر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 428 حباب بن منذر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ان کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی سیرۃ خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ "جس جگہ اسلامی لشکر نے ڈیرہ ڈالا تھاوہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہ تھی۔اس پر حضرت خباب بن منذر نے آپ سے پوچھا کہ خدائی الہام کے ماتحت آپ نے یہ جگہ پسند کی ہے یا محض فوجی تدبیر کے طور پر اسے اختیار کیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بارے میں کوئی خدائی حکم نہیں ہے۔تم اگر کوئی مشورہ دینا چاہتے ہو تو بتاؤ؟ اس پر حضرت حباب نے عرض کیا تو پھر میرے خیال میں یہ جگہ اچھی نہیں ہے۔بہتر ہو گا کہ آگے بڑھ کر قریش سے قریب ترین چشمہ پر قبضہ کر لیا جاوے۔میں اس چشمہ کو جانتا ہوں۔اس کا پانی بھی اچھا ہے اور عموما کافی مقدار میں ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور چونکہ ابھی تک قریش ٹیلے کے پرے ڈیرہ ڈالے پڑے تھے اور یہ چشمہ خالی تھا، مسلمان آگے بڑھ کر اس چشمہ پر قابض ہو گئے۔لیکن جیسا کہ قرآن شریف میں اشارہ پایا جاتا ہے اس وقت چشمہ میں بھی پانی زیادہ نہیں تھا اور مسلمانوں کو پانی کی قلت محسوس ہوتی تھی۔پھر یہ بھی تھا کہ وادی کے جس طرف مسلمان تھے وہ ایسی اچھی نہ تھی کیونکہ اس طرف ریت بہت تھی جس کی وجہ سے پاؤں اچھی طرح جمتے نہیں تھے۔پھر خدا کا فضل ایسا ہوا کہ کچھ بارش بھی ہو گئی جس سے مسلمانوں کو یہ موقع مل گیا کہ حوض بنابنا کر پانی جمع کر لیں اور یہ بھی فائدہ ہو گیا کہ ریت جم گئی اور پاؤں زمین میں دھسنے سے رک گئے اور دوسری طرف قریش والی جگہ میں کیچڑ کی سی صورت ہو گئی اور اس طرف کا پانی بھی کچھ گدلا ہو کر میلا ہو گیا۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 356-357) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرئیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور فرمایا کہ صحیح رائے یہی ہے جس کا حضرت محباب بن منذر نے مشورہ دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حباب ! تم نے عقل کا مشورہ دیا۔غزوہ بدر میں خزرج کا جھنڈ ا حضرت حباب بن منذر کے پاس تھا۔حضرت محباب بن منذر کی عمر 33 سال تھی جب غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 427-428 غزوہ بدر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ان کے بارے میں مزید حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ "جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مخبروں سے لشکر قریش کے قریب آجانے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے اپنے ایک صحابی حباب بن مُنذر کو روانہ فرمایا کہ وہ جا کر دشمن کی تعداد اور طاقت کا پتہ لائیں اور آپ نے انہیں تاکید فرمائی کہ اگر دشمن کی طاقت زیادہ ہو اور مسلمانوں کے لئے خطرہ کی صورت ہو تو واپس آکر مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں " کہ بہت بڑی تعداد ہے بلکہ علیحدگی میں اطلاع دیں تا کہ اس سے " مسلمانوں میں " کسی قسم کی بددلی نہ پھیلے۔خباب خفیہ خفیہ گئے اور نہایت ہوشیاری سے تھوڑی دیر میں ہی واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سارے حالات عرض کر دیئے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 484)