خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 312
خطبات مسرور جلد 16 312 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06جولائی 2018 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو قتل نہیں کرنا) اور وہ خود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اس معاہدے کے خلاف کھڑے ہوئے تھے جو قریش نے بنو ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف کیا تھا۔حضرت مُجد زا ابو بختر منی سے ملے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تمہارے قتل سے روکا ہے۔ابو بختر منی کے ساتھ اس کا ایک ساتھی بھی تھا جو اس کے ساتھ مکہ سے نکلا تھا۔اس کا نام جنادة بن ملیحہ تھا جو بنو لیث سے تھا۔ابو بمختر یخی کا نام عاص تھا۔اس نے کہا کہ میرے اس ساتھی کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ حضرت مجد ز نے کہا کہ نہیں۔اللہ کی قسم !اہم تمہارے ساتھی کو نہیں چھوڑیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صرف تمہارے اکیلے کے متعلق حکم دیا ہے۔اس نے کہا کہ اگر مریں گے تو پھر ہم دونوں اکٹھے مریں گے۔میں یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ ملکہ کی عورتیں یہ بیان کرتی پھریں کہ میں نے اپنی زندگی کی خاطر اپنے ساتھی کو چھوڑ دیا۔پھر وہ دونوں ان سے (حضرت مجذر سے لڑائی کے لئے تیار ہو گئے اور لڑائی میں حضرت مُجدڑ نے اسے قتل کر دیا۔حضرت مجدد رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں نے اس کو بہت اصرار کے ساتھ کہا کہ وہ اسیر ہو جائے اور اسے میں آپ کے پاس لے آتا مگر وہ اس پر رضامند نہ ہوا اور آخر اس نے مجھ سے لڑائی کی اور میں نے اسے قتل کر دیا۔(اسد الغابه جلد 5صفحه 59-60 المجذر بن ذياد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) (عيون الاثر جلد اوّل صفحه 301 باب غزوہ بدر مطبوعه دار القلم بيروت 1993ء) حضرت مجدد کی اولاد مدینہ اور بغداد میں موجود تھی۔ابی و خزہ سے مروی ہے کہ شہدائے اُحد کے جو تین آدمی ایک قبر میں دفن کئے گئے تھے وہ مُجد زبن زیاد ، نعمان بن مالک اور عبدہ بن حسحاس تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 417 المجذر بن ذياد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) لیکن ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت انیسہ بنت عدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بیٹا عبد اللہ جو بدری ہے غزوہ اُحد میں شہید ہو گیا ہے۔میری خواہش ہے کہ میں اپنے بیٹے کو اپنے مکان کے قریب دفن کروں تاکہ مجھے اس کا قرب حاصل رہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی اور یہ فیصلہ بھی ہوا کہ حضرت عبد اللہ کے ساتھ ان کے دوست حضرت مجد ز کو بھی ایک ہی قبر میں دفن کیا جائے۔چنانچہ دونوں دوستوں کو ایک ہی کمبل میں لپیٹ کر اونٹ پر رکھ کر مدینہ بھیجا گیا ان میں سے عبد اللہ ذرا دبلے پتلے تھے اور مجد ر و کیم اور جسیم تھے۔کہتے ہیں روایت میں آتا ہے کہ اونٹ پر دونوں برابر اترے یعنی وزن ایک جیسا تھا۔اتارنے والوں نے دیکھا تو لوگوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں کے اعمال نے ان کے درمیان برابری کر دی۔(اسد الغابه جلد 7 صفحه 31 انيسة بنت عدى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 5 صفحه 573 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت ) حضرت محباب بن منذر بن جموح ایک صحابی ہیں۔ان کی وفات حضرت عمر کے دور خلافت میں ہوئی۔حضرت محباب بن منذر غزره بدر، احد، خندق اور باقی تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔