خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 311
خطبات مسرور جلد 16 311 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 طرف سے مشرکوں کے نام ایک خط ہے۔یہ بخاری کی روایت ہے۔(صحيح البخاری کتاب المغازى باب فضل من شهد بدراً حديث 3983) آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے مسلم اور بغوی وغیرہ میں ان کی یہ حدیث ہے۔فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحه 305 ابو مرثد الغنوى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) ان کی وفات پھر حضرت ابو بکر صدیق کے عہد خلافت میں 12 ہجری میں 66 سال کی عمر میں ہوئی۔(سیر الصحابه از شاہ معین الدین احمد ندوی جلد دوم حصہ دوم صفحہ 581 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی) پھر ایک صحابی ہیں حضرت سلیط بن قیس بن عمرو۔ان کی وفات 14 ہجری میں ہوئی۔حضرت سلیط بن قیس بن عمر و بن عبید بن مالک ان کا پورا نام ہے۔حضرت سلیط بن قیس اور حضرت ابو صر مہ دونوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد خاندانِ بنو عدی بن نجار کے بت توڑ دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر بیٹھ کر مدینہ شہر میں داخل ہو رہے تھے تو ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں قیام کریں۔جب آپ کی اونٹنی بنو عدی کے گھر کے پاس پہنچی اور یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں تھے کیونکہ سلمیٰ بنت عمر و، عبد المطلب کی والدہ اسی قبیلہ سے تھیں۔اس وقت حضرت سلیط بن قیس، ابو سلیط ائیرہ بن ابو خارجہ نے روکنا چاہا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو کہ اس وقت یہ مامور ہے۔یعنی جہاں خدا کا منشاء ہو گا وہاں یہ خود بیٹھ جائے گی۔حضرت سلیط بدر اور اُحد اور خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔جنگ جسمر ابی عبید میں 14 ہجری کو حضرت عمر کے عہد خلافت میں یہ شہید ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 388 سليط بن قيس مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (سیرت ابن هشام صفحه 229 باب هجرة الرسول الله مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) حضرت مجدد بن زیاد۔غزوہ اُحد میں ان کی شہادت ہوئی۔مُجد ر آپ کا لقب تھا اس کا مطلب ہے موٹے جسم والا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مجدد اور عاقل بن نگیر کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔دوسری جگہ یہ آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُجد ر اور حضرت عکاشہ بن محصن کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔حضرت مُجد ز غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شریک ہوئے۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 5 صفحه 573 المجذر بن ذياد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 417 المجخر بن ذياد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) عيون الاثر جلد اوّل صفحه 232۔233 باب ذكر المواخاة مطبوعة دار القلم بيروت 1993ء) ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بختری کو قتل کرنے سے منع فرمایا تھا کیونکہ مکہ میں اس نے لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے سے روکا تھا۔(اس کے عوض