خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 310

خطبات مسرور جلد 16 310 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06جولائی 2018 صلی اللہ علیہ وسلم نے رجیع کی طرف روانہ فرمایا تھا۔یہ واقعہ ماہ صفر تین ہجری میں پیش آیا اور بعض کا خیال ہے کہ اس دستہ کی کمان حضرت عاصم بن ثابت کے پاس تھی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 35 ابو مرثد - مرثد بن ابی مرثد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 5صفحه 133 مرثد بن ابی مرثد مطبوعه دار الكتب العلميه بیروت) (سیر الصحابه جلد 2 صفحه : 554 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی 2004ء) ان کی شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ بنو عضل اور قارہ نے اسلام لانے کا دکھاوا کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی تعلیم کے لئے چند معلم بھیجوانے کی درخواست کی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے بارے میں روایتوں میں اختلاف ہے) حضرت مر تمررضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیر امارت ایک جماعت بھیجی۔یہ لوگ ابھی مقام رجیع پر پہنچے تھے کہ بنو ھذیل ننگی تلواریں لے کر آگئے اور کہا کہ ہمارا مقصد تمہیں قتل کرنا نہیں بلکہ تمہارے بدلہ میں ہم اہل مکہ سے مال حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہم تمہاری حفاظتِ جان کا عہد کرتے ہیں۔اس پر حضرت مرید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خالد رضی اللہ عنہ اور عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں تم لوگوں کے عہد پر بھروسہ نہیں اور اس طرح لڑتے ہوئے تینوں نے جان دے دی۔سیر الصحابه از شاه معین الدین احمد ندوی جلد دوم حصہ دوم صفحہ 555 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی) پھر ایک صحابی ہیں حضرت ابو مر حمد گناز بن الحصین غنوی۔ان کی وفات 12 ہجری میں ہوئی۔بعض لوگوں کے نزدیک ان کی کنیت ابو مرثد تھی۔آپ شام کے رہائشی تھے۔انہوں نے آغاز دعوتِ اسلام میں ہی اسلام قبول کیا اور ہجرت کی اجازت کے بعد مدینہ آگئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی حضرت عبادہ بن صامت سے مؤاخات فرما دی۔(سیر الصحابه از شاہ معین الدین احمد ندوی جلد دوم حصہ دوم صفحہ 581 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی) (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحه 305 ابو مرثد الغنوى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) جب حضرت ابو مرتد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے بیٹے مرد نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو دونوں حضرت کلثوم بن الھدم کے پاس ٹھہرے۔بعض کے نزدیک آپ دونوں حضرت سعد بن خیثمہ کے پاس ٹھہرے۔حضرت ابو مر تیر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حاضر ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 34-35 ابو مرثد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابو مر نجمہ کو تاریخ میں یہ مقام حاصل ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے فتح مکہ سے قبل اپنے بال بچوں کی حفاظت کے خیال سے مکہ والوں کو خفیہ طور پر ایک خط کے ذریعہ اطلاع دینی چاہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سواروں کو اس عورت کی طرف بھیجا جو خط لے کر جارہی تھی۔ان سواروں نے وہ خط بر آمد کروالیا۔ان میں سے ایک سوار حضرت ابو مرتئمز تھے۔حضرت علی سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور ابو مرنیز غنوی اور زبیر کو بھیجا اور ہم گھڑ سوار تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ یہاں تک کہ جب تم روضہ خارج تک پہنچو۔یہ ایک مقام ہے تو وہاں تمہیں مشرکوں میں سے ایک عورت ملے گی جس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کی