خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 309

خطبات مسرور جلد 16 309 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 خیبر 7ہجری میں شہید ہوئے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک یہودی نے آپ کے سر پر وار کیا جس سے آپ کا سر کٹ گیا جس سے آپ کی شہادت ہو گئی۔(اسد الغابه جلد 6 صفحه 175 ابو الضياح بن ثابت مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 364-365 ابو ضياح مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت انسہ ہیں۔ان کی وفات غزوہ بدر میں ہوئی۔لیکن اس میں اختلاف ہے۔کچھ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کی خلافت تک یہ زندہ تھے۔بہر حال آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ حبشی غلام تھے۔آپ کا نام انہ تھا اور ابو ائسہ بھی آتا ہے۔اسی طرح بعض کے نزدیک آپ کی کنیت ابو مسروح تھی۔حضرت انسہ دعوت اسلام کے آغاز میں ہی مشرف باسلام ہوئے اور ہجرت کے زمانہ میں مدینہ گئے اور حضرت سعد بن خیثمہ کے مہمان ہوئے اور جب تک زندہ رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری آپ کا مرغوب مشغلہ تھا۔آپ اس درجہ فرمانبردار تھے کہ ان کے بارے میں آتا ہے کہ جب بیٹھتے تھے تو تب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر بیٹھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوئے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 301-30- انسة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت) (سیر الصحابه از شاه معین الدین احمد ندوی جلد دوم حصہ دوم صفحه 587 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی) (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 1 صفحه 283 انسة مولى رسول الله الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) پھر حضرت ابو کبشہ سلیم ہیں۔کنیت ان کی ابو کبشہ ہے۔ان کی وفات دورِ خلافت حضرت عمر میں ہوئی۔بعض کے نزدیک آپ کا نام سلمہ تھا۔آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ فارسی غلام تھے۔آپ بدری صحابی ہیں۔آپ کی پیدائش اؤس کی زمین پر ہوئی۔آپ کے وطن اور نسب کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔بعض فارسی، بعض دوسی اور بعض کی بتاتے ہیں۔آپ دعوت اسلام کے قریب تر زمانے میں اسلام سے مشرف ہوئے اور ہجرت کی اجازت ملنے پر مدینہ چلے گئے اور بدر سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحه 284 ابو كبشة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (سیر الصحابه از شاه معین الدین احمد ندوی جلد دوم حصہ دوم صفحہ 579 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی) جب حضرت ابو کبشہ نے مدینہ جانے کے لئے ہجرت کی تو آپ حضرت کلثوم بن القدم کے ہاں ٹھہرے اور ایک روایت کے مطابق آپ حضرت سعد بن خیثمہ کے پاس ٹھہرے۔حضرت عمرؓ کے خلیفہ مقرر ہونے کے پہلے روز حضرت ابو کبشہ کی وفات ہوئی۔یہ 22 جمادی الثانی 13 ہجری کی بات ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 36 ابو كبشة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت محمد بن ابی مریم ہیں۔ان کی وفات صفر تین ہجری میں مقام رجیع میں ہوئی۔آپ بدری صحابی تھے۔آپ حضرت حمزہ بن عبد المطلب کے حلیف تھے۔آپ اپنے والد کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے تھے۔آپ اسلام کے شروع میں مشرف باسلام ہوئے اور بدر سے قبل ہجرت کر کے مدینہ آگئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مؤاخات حضرت اوس بن صامت سے فرما دی۔بدر کے روز یہ گھوڑے پر حاضر ہوئے جس کا نام سبل تھا۔ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ حضرت مریڈ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس فوجی دستہ کے سالار تھے جسے آنحضرت