خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 308 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 308

خطبات مسرور جلد 16 308 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2018 نے آپ کا نام حمزہ بن خمیر بیان کیا ہے۔آپ کے والد کے نام کے متعلق بھی اختلاف ہے۔بعض نے خمیر بیان کیا ہے۔جبکہ بعض نے والد کا نام جمیرہ اور جمیر لکھا ہے۔بہر حال اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ آپ کا تعلق قبیلہ اشمع سے تھا اور قبیلہ بنو خزرج کے حلیف تھے۔آپ کے بھائی کا نام عبد اللہ بن حمیر ہے جو کہ غزوہ بدر میں آپ کے ہمراہ شامل ہوئے تھے۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 1 صفحه 704 حارثه بن حمير مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (اسد الغابه جلد 1 صفحه 649 حارثة بن خمير مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت) پھر حضرت سُراقہ بن عمرو کا ذکر ہے یہ انصاری تھے۔ان کا پورا نام سراقہ بن عمر و بن عَطِيَّہ بن خَفْسَاء انصاری تھا۔ان کی وفات جمادی الاول 8 ہجری میں جنگ موتہ میں ہوئی۔ان کا پورا نام سراقہ بن عمرو بن عطیہ بن حنساء انصاری تھا۔ان کی والدہ کا نام عقیلہ بنت قیس تھا اور سراقہ کا تعلق انصار کے معزز قبیلہ بنو نجار سے تھا۔آپ کے قبول اسلام سے متعلق اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک آپ نے ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پہلے اور بعض کے نزدیک آپ نے ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوڑی دیر بعد اسلام قبول کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میچ مولیٰ عمر اور سُراقہ بن عمرو کے در میان مواخات قائم فرمائی۔آپ نے غزوہ بدر ، غزوہ اُحد ، غزوہ خندق اور خیبر میں شرکت کی نیز ان کو صلح حدیبیہ اور عمرۃ القضاء کے موقع پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت حاصل رہی۔حضرت سراقہ بن عمروان خوش قسمت صحابہ میں سے تھے جن کو بیعت رضوان میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا اور ان کا سلسلہ نسب آگے نہیں چلا۔ان کی شہادت جیسا کہ بتایا میں نے جمادی الاول 8 ہجری میں جنگ موتہ کے دوران ہوئی۔الاستيعاب جلد 2 صفحه 580 سراقه بن عمرو مطبوعه دار الجيل بيروت 1992 ء ) (الاصابه في تمييز الصحابه جلد صفحه 34 سراقه بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (الطبقات الكبرى جلد 3صفحه 393 سراقة بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلمیه بیروت 1990ء (عیون الاثر جلد اوّل صفحه 233 ذكر الموخاة دار القلم بیروت 1993ء) ( پچاس صحابہ از طالب الہاشمی صفحه : 553 البدر پبلیکیشنزار دو بازار لاہور 2006ء) پھر صحابی حضرت عباد بن گئیں ہیں۔ان کی وفات بھی 8 ہجری میں جنگ موتہ میں ہوئی۔ان کے نام میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔آپ کا نام عبادہ بن قیس بن عیشہ بھی ملتا ہے۔اسی طرح آپ کے دادا کا نام عبسہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔حضرت عباد حضرت ابو درداء کے چچا تھے۔حضرت عباد غزوہ بدر، احد، خندق اور خبیر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے۔صلح حدیبیہ میں بھی آپ شریک تھے اور جنگ موتہ میں آپ کی شہادت ہوئی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 403 عباده بن قيش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 154 عباد بن قيس مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) پھر حضرت ابو النیاح بن ثابت بن نعمان ہیں۔ان کی وفات 7 ہجری میں ہوئی۔ایک روایت میں آپ کا نام کثیر بن ثابت بن نعمان بن امیہ بن امراء القیس اور دوسری روایت کے مطابق نعمان بن ثابت بن امراء القیس ہے۔آپ اپنی کنیت سے مشہور ہیں جو ابو الفیاح ہے۔غزوہ بدر، احد، خندق اور حدیبیہ میں شریک ہوئے اور غزوہ